اس بار ’ماں گنگا‘ بی جے پی سے چھین سکتی ہیں اپنے ساحل کی نصف سیٹیں

2014 میں الیکشن میں ملک بھر میں گنگا کے کنارے کی تقریباً 43 سیٹیں میں سے بی جے پی کے حصے میں 29 سیٹیں آئی تھیں، لیکن اس بار اس کا نصف بھی این ڈی اے کو ملتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ویسے تو یہ انتخاب کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ کیا گنگا کی ساحل والی لوک سبھا سیٹوں کا نقصان بی جے پی کو نمامی گنگے پروجیکٹ کی ناکامی کی وجہ سے ہوا ہے یا بات کچھ اور ہے، لیکن بی جے پی میں اس بات کو لے کر ایک خوف ہے کہ ماں گنگا سے ملحق یہ سیٹیں اگر ہاتھ سے گئیں تو پریشانی ہو سکتی ہے۔ گنگا کی ساحل سے ملحق لوک سبھا سیٹوں میں اتراکھنڈ کی 2، یو پی کی 26، بہار کی 11، جھارکھنڈ کی 1 اور بنگال کی 3 سیٹیں ہیں۔

2014 میں ان میں یو پی میں بدایوںو قنوج سیٹیں سماجوادی پارٹی اور امیٹھی و رائے بریلی سیٹیں کانگریس نے جیتی تھیں۔ بہار میں بھاگلپور سیٹ آر جے ڈی اور کٹیہار سیٹ این سی پی نے جیتی تھی۔ جھارکھنڈ میں راج محل سیٹ جے ایم ایم نے جیتی تو بنگال کی تینوں سیٹیں بی جے پی ہاری تھی۔ یعنی بی جے پی نے 43 میں سے 29 سیٹیں اور این ڈی اے کی ساتھیوں نے 5 سیٹیں جیتی تھیں اور 9 ہار گئی تھیں۔

ان ہاری ہوئی 9 سیٹوں کے علاوہ بی جے پی کے لیے اس بار اتراکھنڈ میں ایک سیٹ گڑھوال، یو پی میں غازی پور، بلیا، چندولی، بھدوہی، الٰہ آباد، پھول پور، کوشامبی، کانپور، ہردوئی، امروہہ، مظفر نگر یعنی 11 سیٹیں بری طرح پھنسی ہیں۔ اسی طرح بہار میں دو سیٹیں پاٹلی پترا اور بیگو سرائے سیٹ پھنسی ہیں۔ اس طرح پچھلی بار جیتی گئی 29 میں سے 14 سیٹیں پھنسی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔

اتراکھنڈ کی گڑھوال سیٹ پر بی جے پی اور کانگریس روایتی حریف رہے ہیں۔ گزشتہ بار یہاں سے بی جے پی کے بی سی کھنڈوری جیتے تھے۔ اس سیٹ سے پانچ بار رکن پارلیمنٹ رہے سابق وزیر اعلیٰ کھنڈوری کا یہاں کافی اثر ہے۔ لیکن بی جے پی نے انھیں اس بار ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا۔ ان کے بیٹے منیش کھنڈوری یہاں سے کانگریس امیدوار ہیں اس لیے بی جے پی اس بار یہاں بری حالت میں ہے۔

یو پی کی تقریباً ایک تہائی سیٹیں گنگا ساحل سے جڑی ہیں۔ گزشتہ انتخاب میں بی جے پی کو ان میں سے 23 سیٹوں پر فتح حاصل ہوئی تھی۔ مظفر نگر وہ سیٹ ہے جہاں گنگا ندی یو پی میں داخل ہوتی ہے۔ یہاں سے پچھلی بار بی جے پی کے ڈاکٹر سنجیو بالیان جیتے تھے۔ اس بار ایس پی-بی ایس پی-آر ایل ڈی اتحاد نے بالیان کے سامنے آر ایل ڈی سربراہ چودھری اجیت سنگھ کو مشترکہ امیدوار کی شکل میں اتارا ہے۔ کانگریس نے بھی اجیت کی حمایت کی ہے۔ اس سے بی جے پی کے لیے یہ سیٹ جیتنا مشکل لگ رہا ہے۔ اس انتخاب میں پچھلی بار کی طرح مودی لہر نہ ہونے سے امروہہ، ہردوئی اور اناؤ سیٹیں بھی بی جے پی کے لیے آسان نظر نہیں آ رہیں۔

امروہہ میں حال سامنے دیکھ کر بی جے پی امیدوار کنور سنگھ تنور نے فرضی ووٹنگ کے الزام لگائے ہیں تو ہردوئی میں تو پارٹی کے موجودہ رکن پارلیمنٹ انشُل ورما نے بغاوتی رخ اختیار کر لیا ہے۔ اُناؤ میں بی جے پی امیدوار ساکشی مہاراج اتنے بوکھلا گئے ہیں کہ انھوں نے بیان دے دیا کہ جو انھیں ووٹ نہیں دے گا اسے ’پاپ‘ لگے گا۔ کانپور میں بی جے پی لیڈر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کی جگہ ستیہ دیو پچوری کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ اس کی کافی مخالفت ہو رہی ہے اور پچوری کو کافی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی طرح ایس پی-بی ایس پی اتحاد کی وجہ سے کوشامبی، الٰہ آباد اور پھول پور سیٹیں بھی بی جے پی کے لیے زبردست مشکل میں ہیں۔ پھول پور میں تو ضمنی انتخاب میں اس اتحاد نے بی جے پی کو بری طرح شکست فاش دیا تھا۔

بھدوہی میں بی جے پی نے بی ایس پی سے آئے مرزا پور باشندہ رمیش چندر بند کو ٹکٹ دیا ہے جنھیں بھدوہی کے مقامی لیڈروں سے مقابلہ کرنے میں کافی مشکل آ رہی ہے۔ تین دیگر سیٹوں چندولی، غازی پور اور بلیا میں بھی بی جے پی کے لیے حالت آسان دکھائی نہیں پڑ رہی ہے۔ یہ علاقے سماجوادیوں کے گڑھ رہے ہیں۔ ان سیٹوں سے بی جے پی اب تک صرف لہر چلنے پر ہی جیتی ہے۔ چندولی سے بی جے پی امیدوار اور ریاستی بی جے پی صدر مہندر ناتھ پانڈے، غازی پور سے منوج سنہا اور بلیا سے بیریندر سنگھ مست اس بار لہر نہ ہونے اور ایس پی-بی ایس پی اتحاد ہونے سے مشکل میں ہیں۔

غازی پور میں تو منوج سنہا کو اتحاد کے امیدوار اور پوروانچل کے دَبنگ کہے جانے والے مختار انصاری کے بھائی افضال انصاری سے ٹکر لینی پڑ رہی ہے جب کہ بلیا میں ٹکٹ کٹنے سے موجودہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ بھرت سنگھ باغی تیور اختیار کر کے ویریندر سنگھ کو مشکل میں ڈالے ہوئے ہیں۔

بہار میں بی جے پی کے ذریعہ پچھلی بار جیتی گئی سیٹوں میں سے دو پاٹلی پترا اور بیگوسرائے اس کے لیے اس بار مشکل والی ہیں۔ پاٹلی پترا سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رہے شتروگھن سنہا ٹکٹ کٹنے پر بغاوت کر کانگریس میں شامل ہو گئے اور بی جے پی کے خلاف اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار ہیں۔ اسی طرح بیگوسرائے میں پچھلی بار جیتے بھولا سنگھ کے انتقال کے بعد پڑوسی نوادہ سیٹ کے رکن پارلیمنٹ گری راج سنگھ کو بی جے پی نے یہاں سے امیدوار بنایا ہے۔ یہاں آر جے ڈی امیدوار تنویر حسن اور سی پی آئی امیدوار کنہیا کمار نے بی جے پی امیدوار کو ناکوں چنے چبوا دیا ہے۔

بنگال میں مالدہ جنوب وہ سیٹ ہے جہاں 1971 اور 1977 کو چھوڑ کر دیگر سبھی انتخابات میں کانگریس نے فتح حاصل کی۔ 1980 سے اس سیٹ پر کانگریس کے اے بی اے غنی خان چودھری کی فیملی کا قبضہ رہا ہے۔ یہاں گزشتہ انتخاب میں کانگریس کو 35 فیصد ووٹ ملے تھے جب کہ بی جے پی 20 فیصد ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی تھی۔ اس فرق کو ختم کرنا بی جے پی کے لیے اب بھی مشکل بھرا معلوم ہوتا ہے۔ جنگی پور سیٹ گزشتہ تین انتخابات سے کانگریس کے قبضے میں ہے اور یہاں سے پرنب مکھرجی اور ان کے بعد سے دو بار ان کے بیٹے ابھجیت مکھرجی نے سیٹ جیتی ہے۔ بی جے پی یہاں چوتھے مقام سے آگے بڑھنے کی لڑائی لڑ رہی ہے۔

مرشدآباد سیٹ پر کانگریس اور سی پی ایم کے درمیان مقابلہ رہا ہے۔ فی الحال یہ سیٹ سی پی ایم کے پاس ہے۔ بی جے پی کو یہاں سے پچھلی بار 7.85 فیصد ووٹ ملے تھے۔ واضح ہے کہ ماں گنگا کا آشیرواد اس بار پی ایم مودی کے ساتھ نہیں ہے۔

(سندیپ ترپاٹھی کی رپورٹ)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔