دہلی میں بیشتر کورونا متاثرین بغیر علامات والے!

سروے کے نتائج سے یہ معلوم ہوا کہ دہلی میں اوسطاً 23.48 فیصد لوگوں میں آئی جی جی یعنی ’امیونوگلوبلین جی اینٹی باڈیز‘ پائے گئے ہیں۔

ماسک پہن کر ڈیوٹی کرنے کے لئے تیار دہلی پولیس کی خاتون اہلکار / تصویر قومی آواز / وپن
ماسک پہن کر ڈیوٹی کرنے کے لئے تیار دہلی پولیس کی خاتون اہلکار / تصویر قومی آواز / وپن
user

یو این آئی

نئی دہلی: کورونا وائرس کوڈ- 19 کے پھیلاؤ کا پتہ لگانے کے لئے کیے گئے ایک سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ دہلی میں زیادہ تر متاثرین میں کورونا کے علامات نہیں پائے گئے۔ مرکزی وزارت کے حکم پر گزشتہ 27 جون سے 10 جولائی کے درمیان راجدھانی دہلی کے سبھی 11اضلاع میں نیشنل سینٹر فار ڈسیز سینٹرنے یہ سروے کیا۔ سروے کے نتائج سے یہ معلوم ہوا کہ دہلی میں اوسطاً 23.48 فیصد لوگوں میں آئی جی جی یعنی ’امیونوگلوبلین جی اینٹی باڈیز‘ پائے گئے ہیں۔ کرونا وائرس سے متاثرہ افراد میں یہ اینٹی باڈی عام طور پر وائرس کے تقریباً دو ہفتوں کے بعد پایا جاتا ہے اور وہ کورونا وائرس سے صحتمند ہونے کے بعد بھی رہتا ہے۔

وزارت کے مطابق وبا کے آغاز کے تقریباً چھ ماہ بعد گھنی آبادی والی دہلی میں 23.48 فیصد آبادی میں آئی جی جی اینٹی باڈیز پائے گئے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ وہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے فوری طور پر سخت اقدامات اٹھائے۔ حالانکہ اس کے باوجود اب بھی بہت بڑی آبادی پر کورونا وائرس کا خطرہ منڈلا رہا ہے، اسی لئے کنٹینمنٹ زون کے بارے میں پالیسیاں برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ وزارت نے سماجی فاصلہ، چہرے کے ماسک کے استعمال، ہاتھوں کی صفائی وغیرہ پر بھی زور دیا ہے۔ یہ بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ بھیڑ بھاڑ والے علاقوں کا دورہ کرنے سے گریز کریں۔

اس سروے کے تحت منتخب افراد سے تحریری رضامندی حاصل کی گئی اور پھر ان کے خون کی جانچ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے ذریعہ منظور شدہ کووڈ کوچ الائزا کے ذریعے کی گئی۔ اس کے لئے کل 21387 نمونوں کی جانچ کی گئی۔ آبادی میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو جاننے کے لئے وقتاً فوقتاً یہ سروے کیا جاتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


پسندیدہ ترین
next