مغربی ایشیا کی جنگ میں تیل اور گیس کی 40 سے زائد تنصیبات تباہ، بحران سے محفوظ نہیں رہا کوئی بھی ملک

آئی ای اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا کہ صرف تیل اور گیس ہی نہیں بلکہ پیٹرو کیمیکل، کھاد، سلفر اور ہیلیم جیسی ضروری مصنوعات کی تجارت بھی متاثر ہوئی ہے۔ اس سے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ کی وجہ سے 9 ممالک میں واقع تیل اور گیس سے متعلق 40 سے زیادہ بنیادی ڈھانچے کو ’شدید یا بہت شدید‘ نقصان پہنچایا ہے اور یہ کہ کوئی بھی ملک تیل اور گیس کی سپلائی میں رکاوٹ سے محفوظ نہیں رہے گا۔

آئی ای اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بیرول نے پیر کو آسٹریلیا کے کینبرا میں کہا کہ اس بحران کے اثرات اتنے بڑے ہیں کہ اس کا موازنہ 1970 کی دہائی کے تیل کے بحران اور 2022 میں روس-یوکرین جنگ کے بعد گیس کے بحران سے کیا جا سکتا ہے۔ آسٹریلیا کے نیشنل پریس کلب میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 1970 کی دہائی میں تیل کے بحران نے تقریباً 1 کروڑ بیرل یومیہ کی سپلائی کو متاثر کیا جب کہ موجودہ صورتحال کے نتیجے میں پہلے ہی تقریباً 1.1 کروڑ بیرل یومیہ کا نقصان ہو چکا ہے۔


انہوں نے کہا کہ صرف تیل اور گیس ہی نہیں بلکہ پیٹرو کیمیکل، کھاد، سلفر اور ہیلیم جیسی ضروری مصنوعات کی تجارت بھی متاثر ہوئی ہے۔ اس سے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سے قبل مارچ کے اوائل میں بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے اپنے رکن ممالک کے ایمرجنسی ذخائر سے ریکارڈ 400 ملین بیرل تیل کی فراہمی کی کمی پورا کرنے اور بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کا اعلان کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ایجنسی ایشیا اور یورپ کے کئی ممالک کے ساتھ ضرورت پڑتنے پر اور تیل جاری کرنے کے حوالے سے بات چیت کر رہی ہے۔ حالانکہ جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد ورفت عملی طور پر ٹھپ ہوگئی ہے۔ ایسے حالات میں ایندھن کی سپلائی کے مسئلے کا واحد حقیقی حل اسی اہم تجارتی راستے کو دوبارہ کھولنے میں مضمر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ بحران مزید بڑھتا ہے تو یہ عالمی معیشت کے لیے ایک اہم خطرہ بن سکتا ہے۔