بی جے پی پر وعدہ خلافی کا الزام عائد کرتے ہوئے 350 کشمیری پنڈتوں نے ملازمت سے دیا استعفیٰ!

دہشت گردوں کے ذریعہ کشمیری پنڈت راہل بھٹ کے قتل کی مخالفت میں جموں و کشمیر انتظامیہ کے لیے کام کرنے والے کم از کم 350 کشمیری پنڈتوں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

دہشت گردوں کے ذریعہ کشمیری پنڈت راہل بھٹ کے قتل کی مخالفت میں جموں و کشمیر انتظامیہ کے لیے کام کرنے والے کم از کم 350 کشمیری پنڈتوں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ کشمیری پنڈتوں نے اپنے استعفے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو بھیجا ہے۔ ان لوگوں نے کہا ہے کہ حکومت کشمیری پنڈتوں کو تحفظ دینے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ وادی کی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اجتماعی استعفے کو لیفٹیننٹ گورنر کے علاوہ وزیر داخلہ کو بھی بھیجا گیا ہے۔ ساتھ ہی وزیر اعظم روزگار منچ سے جڑے کشمیری پنڈتوں نے بھی استعفیٰ بھیجا ہے۔

حکومت کو بھیجے گئے استعفیے میں کہا گیا ہے کہ ’’انتظامیہ کی پالیسیوں سے مایوس اور وادی میں گزشتہ 12 سال سے خدمات دے رہے اقلیتی کشمیری پنڈتوں میں سیکورٹی کا احساس پیدا کرنے میں ناکامی کے ساتھ ہی ایک قابل احترام گھر واپسی کا وعدہ پورا نہ ہونے اور زندگی جینے کے بنیادی حقوق پر خطرہ ہونے کے سبب ہم استعفیٰ دے رہے ہیں۔‘‘ استعفی نامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ہم سبھی وزیر اعظم پیکیج کے ملازمین اور غیر پیکیج کے ملازمین کے پاس اجتماعی استعفیٰ دینے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے کیونکہ اپنی جان بچانے کا یہی ایک راستہ ہے۔‘‘


واضح رہے کہ راہل بھٹ کی بڈگام کے چھدورا میں تحصیل دفتر میں ہی دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔ کشمیری پنڈتوں نے بی جے پی حکومت پر جھوٹے وعدے کرنے اور انھیں پورا نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ راہل بھٹ کی موت کی مخالفت میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر اترے اور انھوں نے مودی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ انھیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج تک کیا۔ لاٹھی چارج کے بعد تمام کشمیری پنڈتوں نے سوشل میڈیا پر اپنے غصے کا اظہار کیا ہے۔ کشمیر کے کئی علاقوں میں بی جے پی لیڈروں کو کشمیری پنڈتوں کے غصے کا سامنا کرنا پڑا۔ جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر رویندر رینا کو مظاہرین کے غصے کا سامنا کرنا پڑا۔

کشمیری پنڈتوں کی مخالفت تیز ہونے کے بعد لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے راہل بھٹ کے رشتہ داروں سے ملاقات کی۔ انھوں نے اس کی جانکاری میڈیا کے ساتھ بھی شیئر کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’راہل بھٹ کی فیملی سے مل کر انصاف دلانے کی یقین دہانی کرائی۔ اس افسوس کے وقت میں حکومت راہل کی فیملی کے ساتھ ہے۔ دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کو اس جرم کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔‘‘


بھٹ کی فیملی نے الزام لگایا ہے کہ دہشت گرد نشانہ بنا کر لوگوں کی جان لے رہے ہیں۔ راہل کی بیوی نے کہا کہ ’’راہل کہتا تھا کہ اس کا سب کے ساتھ دوستانہ رشتہ ہے اور کوئی اسے نقصان نہیں پہنچائے گا۔ لیکن پھر بھی کسی نے اسے نہیں بچایا۔ دہشت گردوں کو ضرور کسی نے اس کے بارے میں بتایا ہوگا۔‘‘ راہل کے والد نے کہا کہ ان کا بیٹا حکومت کی خدمات کرتے ہوئے مارا گیا ہے۔

اس درمیان سبھی سیاسی پارٹیوں نے راہل بھٹ کے قتل کی تنقید کی ہے ارو جرائم پیشوں کو سکت سزا دینے کی بات کہی ہے۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس واقعہ کو شرمناک بتاتے ہوئے کشمیری پنڈتوں کے ذریعہ کیے گئے احتجاجی مظاہرہ کی حمایت کی ہے۔ انھوں نے ٹوئٹ میں کہا کہ ’’یہ ایک شرمناک واقعہ ہے۔ اس سے بھی زیادہ شرم کی بات یہ ہے کہ انصاف کا مطالبہ کرنے والوں پر لاٹھیاں چلائی گئیں۔ یہ کشمیر کے لوگوں کے لیے نئی بات نہیں ہے کیونکہ حکومت کے پاس ہر مسئلہ کے حل کے لیے سوائے لاٹھی کے اور کوئی ہتھیار نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ اگر لیفٹیننٹ گورنر کی حکومت کشمیری پنڈتوں کی حفاظت نہیں کر سکتی تو انھیں کم سے کم احتجاج ظاہر کرنے کا تو موقع دینا چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔