دہلی فساد: نہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں اور نہ ہی فون لوکیشن وہاں کی، پھر بھی قید

پچھلے ماہ کردم پوری کے رہنے والے 28سالہ شاہ رخ کو ضمانت ملی، وہ رکشہ چلا کر اپنے گھر کا خرچ اٹھاتاہے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

شمال مشرقی دہلی فساد کے الزام میں دس ماہ سے قیدِافرادمیں سے کل مصطفی باد کے شاہ رخ (ایف آئی آرنمبر 113/2020گوکل پوری تھانہ) کو اور اسی طرح محمد طاہر (ایف آئی آر نمبر 138/2020گوکل پوری تھانہ)کو کرکر ڈوما کورٹ میں جسٹس ونود یادو نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔یہ اطلاع جمعیۃ کی جاری کردہ ریلیز میں دی گئی ہے۔

ریلیز کے مطابق عدالت نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ ان کے خلاف بادی النظر میں کوئی بھی ثبوت نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی بھی سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آرہے ہیں۔ واضح رہے کہ دہلی کورٹ نے اسی ہفتے متعد د بے قصور لوگوں کو ضمانت پر رہا کرنے کاحکم دیا ہے جس میں خالد مصطفی، اشرف علی، محمد سلمان سمیت بڑی تعداد میں بے قصور لوگ ہیں۔یہ سارے افراد جمعیۃ علماء ہند کی قا نونی چارہ جوئی کی وجہ سے ضمانت پر رہا ہوئے ہیں۔

دریں اثناء جمعیۃ علماء ہند کے مقررکردہ وکلاء ایڈوکیٹ محمد نوراللہ، ایڈوکیٹ شمیم اختراور ایڈوکیٹ سلیم ملک کی پیروی سے مختلف عدالتوں سے تاحال 161مقدمات میں ضمانت ملی ہے، ان میں وہ لوگ شامل ہیں جن کے بارے میں عدالتوں نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ ان کے خلاف پولس کوئی قابل توجہ ثبوت جمع کرنے میں کامیاب نہیں رہی ہے، ان لوگوں کو خانہ پری کے لیے فساد کے دو دوماہ بعد ان کے گھروں سے جبریہ ا ٹھا یا گیااور جیلوں میں ٹھونس دیا گیا۔

دہلی فساد سے متعلق جمعیۃ علماء ہند کے قا نونی معاملات کے نگراں ایڈوکیٹ نیاز احمد فاروقی نے بتایا کہ پچھلے ماہ کردم پوری کے رہنے والے 28سالہ شاہ رخ کو ضمانت ملی، وہ رکشہ چلا کر اپنے گھر کا خرچ اٹھاتاہے، دہلی فساد کے بعد ۳/اپریل کو اسے کردم پوری پلیہ سے پولس نے اٹھا لیا تھا اور اس پر قتل سمیت متعدد مقدمات عائد کردیے تھے،و ہ دس ماہ تک بند رہا، اس کے اہل خانہ جمعیۃ علماء کے دفتر آتے تھے،ان کے پاس یہاں آنے تک کا کرایہ نہیں ہو تا تھا۔ شاہ رخ کو 31/دسمبر 2020ء کو دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس سریش کیٹ نے اپنے فیصلہ میں ضمانت دیتے ہوئے کہا وہ نہ تو سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آرہا ہے اور نہ ہی اس کی کال ڈیٹیل ریکارڈ جائے واردات میں ہونے کو بتلار ہا ہے، اسے محض ایک شخص کی گواہی پر پکڑ لیا گیا۔

ایڈوکیٹ نیاز فاروقی نے بتایا کہ ہمارے پاس جتنے بھی مقدمات ہیں ان میں زیاد ہ تر افراد نہ صرف بے قصور ہیں بلکہ انتہائی غریب اور حالات کے مارے ہیں، آج ان کے گھروں میں چراغ جلانے جیسے حالات نہیں ہیں، ان کے گھر کا تنہا کمانے والا دہلی پولس کی غلط سوچ کی بنیاد پرمہینوں سے بندہے جس نے مزید حالات ابتر کردیے۔جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کا عزم ہے کہ ضمانت حتمی منزل نہیں ہے بلکہ ان کو مقدمات کے چنگل سے آزاد کرانے تک جد وجہد جاری رہے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next