جنوب مغربی مانسون دہلی پہنچ گیا، بارش نے گرمی سے دی راحت

محکمہ موسمیات کے مطابق جنوب مغربی مانسون مدھیہ پردیش، اتر پردیش، راجستھان، ہریانہ، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور دہلی سمیت مہاراشٹر کے حصوں کا احاطہ کرے گا۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ آئی اے این ایس</p></div>

تصویر بشکریہ آئی اے این ایس

user

یو این آئی

جنوب مغربی مانسون اتوار کو دہلی پہنچ گیا، جس سے قومی دارالحکومت میں آسمانی بجلی گرنے کے ساتھ زبردست بارش ہوئی۔ ہندوستان کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے اتوار کو کہا کہ اگلے دو دنوں کے دوران گجرات، راجستھان، ہریانہ، پنجاب اور جموں و کشمیر کے باقی حصوں میں جنوب مغربی مانسون کے مزید آگے بڑھنے کے لیے حالات سازگار ہیں۔

جنوب مغربی مانسون اتوار کو ممبئی، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، راجستھان، ہریانہ، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور دہلی سمیت مہاراشٹر کے باقی حصوں کا احاطہ کرے گا۔ آئی ایم ڈی کے مطابق "یہ اب گجرات کے کچھ حصوں، جموں و کشمیر کے کچھ اور حصوں اور لداخ میں جائے گا۔"


آئی ایم ڈی کے ڈائریکٹر جنرل مرتیونجے مہاپاترا نے کہا، "جنوب مغربی مانسون اب سرگرم ہے۔ مانسون مدھیہ پردیش، اتر پردیش، دہلی اور ہریانہ، گجرات، راجستھان، پنجاب اور جموں کے حصوں میں بھی پہنچ چکا ہے۔ یہ اگلے 2 دنوں میں مزید آگے بڑھے گا  اور دوسرے حصوں میں بھی جائے گا۔

جیسے ہی مانسون دہلی میں پہنچا، قومی راجدھانی میں اتوار کی اولین ساعتوں میں اس کے آس پاس کے کئی حصوں میں آسمانی بجلی گرنے کے ساتھ ساتھ زبردست بارش ہوئی۔مسٹر مہا پاترا نے کہا، "دہلی میں زیادہ سے زیادہ پانچ سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، بارش اگلے دو دن تک جاری رہے گی۔"


بلیٹن میں قومی راجدھانی اور این سی آر کے آس پاس کے علاقوں میں مزید بارش کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگلے پانچ دنوں کے دوران مشرقی وسطی اور قومی دارالحکومت سمیت شمال مغربی ہندوستان کے کچھ حصوں میں بھاری سے بہت زیادہ بارش کا امکان ہے۔

اطلاعات کے مطابق ممبئی خطہ میں سب سے زیادہ 18 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی اور آج بھاری سے بہت زیادہ بارش ہونے کا امکان ہے۔ مانسون وسطی ہندوستان میں سرگرم ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ 5 روز کے دوران ملک میں گرمی کی لہر نہیں ہوگی۔ جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اگلے پانچ دنوں کے دوران شمال مغربی ہندوستان میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں چار سے چھ ڈگری سیلسیس کی کمی کا امکان ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔