’ترمیم شدہ‘ طلاق ثلاثہ بل  آج راجیہ سبھا میں پیش ہوگا

مودی حکومت کے طلاق ثلاثہ سے متعلق مسلم خواتین (تحفظ حقوق ازدواج) بل 2017 میں گزشتہ روز کابینہ نے معمولی ترمیم کو منظوری دی۔ بل لوک سبھا سے منظور ہو چکا ہے اور آج اسے راجیہ سبھا میں پیش کیا جا رہا ہے۔

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کا آج آخری دن ہے۔ آج مرکزی حکومت راجیہ سبھا میں طلاق ثلاثہ پر مبنی بل پیش کر سکتی ہے۔ جمعرات کو ہی مودی حکومت نے اس بل میں ترمیم کی ہے، حکومت کو امید ہے

قبل ازیں حکومت نے راجیہ سبھا میں زیرالتوا طلاق ثلاثہ سے متعلق بل میں تین ترامیم کرتے ہوئے اس میں مجسٹریٹ کے ذریعہ ملزم شوہر کو ضمانت دیئے جانے اور مناسب شرائط پر مفاہمت کی شقوں کو شامل کیا ہے۔ بل کی مخالفت کررہی کانگریس سے بھی حکومت نے اپنا موقف واضح کرنے کو کہاہے۔ وزیراعظم نریندرمودی کی صدارت میں گزشتہ روز یہاں ہوئی کابینہ کی میٹنگ میں ان تینوں ترامیم کو منظوری دی گئی۔

میٹنگ کےبعد قانون وانصاف کے وزیر روی شنکر پرساد نے صحافیوں کو بتایاکہ پہلی ترمیم کے تحت اب ایف آئی آر درج کرانے کا حق خود متاثرہ بیوی، اس سے خون کا رشتہ رکھنے والے افراد اور شادی کے بعد بنے رشتہ داروں کو ہی ہوگا۔

اس کے علاوہ بل میں مفاہمت کا التزام بھی ہے۔ پرساد نے بتایاکہ مجسٹریٹ مناسب شرطوں پر شوہر۔ بیوی کے مابین سمجھوتہ کراسکتاہے۔ ایک دیگر ترمیم ضمانت کے سلسلہ میں کی گئی ہے۔ اب مجسٹریٹ کو یہ اختیار دیاگیاہے کہ وہ متاثرہ کا موقف سننے کے بعد ملزم شوہر کو ضمانت دے سکتاہے۔ حالانکہ انہوں نے واضح کیاکہ یہ اب بھی غیر ضمانتی جرم برقرار ہے جس میں تھانہ سے ضمانت ملنی ممکن نہیں ہے۔ یہ بل لوک سبھا میں منظور ہوچکاہے لیکن راجیہ سبھا میں زیرالتوا ہے۔

بل میں جن ترامیم کو کابینہ نے منظوری دی:

* مجسٹریٹ چاہے تو ملزم شوہر کو ضمانت دے سکتا ہے۔ حالانکہ جرم کو اب بھی غیر ضمانتی ہی قرار دیا گیا ہے۔

* ایف آئی آر درج کرانے کا حق متاثرہ بیوی، اس سے خون کا رشتہ رکھنے والے اور شادی کے بعد بنے رشتہ داروں کو ہی ہوگا۔

* مجسٹریٹ مناسب شرطوں پر شوہر۔ بیوی کے مابین سمجھوتہ کراسکتاہے۔

سب سے زیادہ مقبول