مانسون اجلاس: راہل گاندھی کا ’پیگاسس معاملہ‘ پر لوک سبھا میں تحریک التوا کا نوٹس، مودی حکومت پر حملہ

دریں اثنا، راہل گاندھی نے کسان تحریک کے حوالہ سے بھی مودی حکومت پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے لئے قرض معافی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے، جبکہ وہ صنعت کاروں کے قرض معاف کرتی ہے

راہل گاندھی / ٹوئٹر
راہل گاندھی / ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور حزب اختلاف کے متعدد رہنماؤں نے بدھ کے روز اسرائیلی سپائی ویئر ’پیگاسس‘ کے ذریعے موبائل فونز کی جاسوسی کرانے کے معاملہ میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو تحریک التوا کا نوٹس پیش کیا۔ دریں اثنا، راہل گاندھی نے کسان تحریک کے حوالہ سے بھی مودی حکومت پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے لئے قرض معافی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔

کسان تحریک پر راہل گاندھی نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’جب دوستوں کا قرض معاف کرتے ہو، تو ملک کے کسانوں کا کیوں نہیں؟ کسانوں کو قرض سے آزاد کرنا مودی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ یہ سراسر ناانصافی ہے۔‘‘

ٹوئٹر کے ساتھ راہل گاندھی نے ایک خبر بھی شیئر کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے پارلیمنٹ کو اطلاع دیتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی قرض معاف کرنے کا حکومت کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

وہیں، راہل گاندھی اور اپوزیشن رہنماؤں نے پارلیمنٹ میں کئی مسائل کے سلسلہ میں حکمت عملی تیار کرنے کے لئے بدھ کے روز ایک اجلاس طلب کیا۔ اس دوران پیگاسس جاسوسی، کسان تحریک اور مہنگائی کے معاملہ پر حکومت کی جانب سے بحث نہ کرائے جانے کو سنگین قرار دیا گیا۔

پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کے لیڈران کی میٹنگ کے بعد کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا ’’ہم مہنگائی، پیگاسس اور کسانوں کے مسئلہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان مسائل پر ایوان میں بحث کی جائے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔