موہن بھاگوت نے ایک بار پھر ’بابر‘ کو انتخابی مدا بنایا، بتایا بھیانک آندھی

آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے اپنی تقریر کے دوران اشاروں میں فرانس کے ساتھ ہوئے رافیل معاہدہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور مودی حکومت سے کہا کہ وہ دوسرے ممالک سے تعاون لینے کی جگہ خود انحصار بننے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

آر ایس ایس ناگپور میں وجے دشمی کا تہوار منا رہا ہے اور اس تقریب میں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے ایک بار پھر مغل حکمراں بابر کی زبردست تنقید کرتے ہوئے اس کو انتخابی مدا بنانے کی کوشش کی۔ انھوں نے تقریب میں موجود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہندوستان میں ایک بھیانک آندھی بابر کی شکل میں آئی اور اس نے ہمارے ملک کے ہندو-مسلمانوں کو نہیں بخشا۔ اس کے نیچے سماج روندا جانے لگا۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے بابری مسجد کے مقام پر رام مندر جلد تعمیر کیے جانے کی بات بھی کہہ ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ رام صرف ہندوؤں کے نہیں ہیں بلکہ پورے ملک کے ہیں اور کسی بھی طرح بنے لیکن مندر بننا چاہیے۔ آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ ’’حکومت کو رام مندر کے لیے قانون لانا چاہیے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ان کا اقتدار ہے پھر بھی مندر کیوں نہیں بنا۔‘‘ بھاگوت کا اپنے خطاب میں بابر کا ذکر کرنے کا سیدھا مطلب ہے اس کو انتخابی مدا بنانا۔

اپنی تقریر کے دوران موہن بھاگوت نے کئی معاملوں میں مرکز کی نریندر مودی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کچھ معاملوں میں وزیر اعظم پر براہ راست حملہ کیا اور کچھ معاملوں میں اشاروں میں باتیں کیں۔ جہاں رام مندر معاملہ پر حکومت سے جلد از جلد قانون لانے کی بات کہی گئی وہیں ہندوستان کے دفاعی معاملہ پر کہا کہ ہندوستان کو دوسروں پر منحصر ہونے کی جگہ خود انحصار بننا چاہیے۔ بھاگوت کے اس بیان کو رافیل سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے جس کے خلاف کانگریس صدر راہل گاندھی نے زبردست محاذ کھول رکھا ہے اور لگاتار وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر دفاع نرملا سیتارمن اور مرکزی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرتے رہے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ فرانس کے ساتھ ہوئے رافیل معاہدہ سے آر ایس ایس بھی خوش نہیں ہے۔ آر ایس ایس سربراہ دفاعی آلات اور طیاروں کی تعمیر بھی ہندوستان میں کرائے جانے کے حق میں ہیں اور اس کے لیے مرکزی حکومت کو خود کو مضبوط بنانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

موہن بھاگوت نے سبریمالہ مندر میں ہر عمر کی خاتون کو دی گئی داخلے کی اجازت پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھی تذکرہ کیا۔ ان کا اس معاملہ میں کہنا ہے کہ مذہبی معاملوں پر فیصلہ دھرماچاریوں سے بات چیت کے بعد سنایا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اتنے سالوں سے چلی آ رہی روایت ٹوٹ گئی۔ جنھوں نے عرضی ڈالی وہ کبھی مندر نہیں گئے، جو خواتین عدالت کے فیصلہ کے خلاف تحریک چلا رہی ہیں وہ عقیدت کو مانتی ہیں۔ ہر روایت کے پیچھے کئی اسباب ہوتے ہیں۔ عدالت کے فیصلے سے وہاں عدم اطمینان پیدا ہو گیا ہے۔ خواتین ہی اس روایت پر عمل کرنا چاہتی ہیں لیکن ان کی بات نہیں سنی گئی۔‘‘

آر ایس ایس کی اس تقریب میں نوبل انعام یافتہ کیلاش ستیارتھی بطور مہمان خصوصی پہنچے تھے۔ انھوں نے شرکاء سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب کے دوران انھوں نے آر ایس ایس کی دعوت کو چھوٹے بچوں سے ان کی محبت سے جوڑ کر دیکھا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اس تقریب میں مجھے بلا کر آج سَنگھ نے چھوٹے بچوں کی طرف ہاتھ بڑھایا ہے۔‘‘ آر ایس ایس کے اس قدم کو بچوں سے نزدیکی بنانے کی ایک کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے اور اس طرح بچوں کے ذہن میں ان کا نظریہ ڈالنے کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔

Published: 18 Oct 2018, 11:08 AM
next