مودی حکومت کی مقبولیت میں زبردست زوال، پچھلے ایک مہینے میں ہوا مزید برا حال

مودی حکومت کی کارکردگی ریٹنگ 26 فروری کو بالاکوٹ ہوائی حملے کے بعد کے دنوں میں کافی بڑھ گئی تھی لیکن اس کے بعد مودی حکومت کی مقبولیت میں لگاتار زوال درج کیا گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

مودی حکومت کی مقبولیت میں لگاتار گراوٹ آ رہی ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے پہلے مرحلہ کی ووٹنگ ختم ہو چکی ہے اور 18 اپریل کو دوسرے مرحلے کی ووٹنگ ہونی ہے۔ اس درمیان لوگوں کا رجحان بتا رہا ہے کہ مودی حکومت کی مقبولیت میں بے تحاشہ گراوٹ آئی ہے۔ مودی حکومت کو پسند کرنے والوں کی ریٹنگ میں 12 مارچ اور 12 اپریل کے درمیان 12 پوائنٹ کی گراوٹ آئی ہے۔ سی ووٹر-آئی اے این ایس ٹریکر میں یہ بات سامنے آئی ہے۔

مودی حکومت کی کارکردگی ریٹنگ 26 فروری کو بالاکوٹ ہوائی حملے کے بعد کے دنوں میں کافی بڑھ گئی تھی اور 7 مارچ کو یہ 62.06 کے ہائی لیول پر پہنچ گئی تھی۔ لیکن اس کے بعد مودی حکومت کی مقبولیت میں لگاتار گراوٹ درج کی گئی۔ 22 مارچ تک 50 سے 59 کے درمیان رہنے کے بعد لوک سبھا کے پہلے مرحلہ میں 91 سیٹوں پر ووٹنگ کے ایک دن بعد 12 اپریل کو حکومت کو پسند کرنے والوں کی ریٹنگ گھٹ کر 43.25 رہ گئی۔ جب کہ ٹھیک ایک مہینے قبل 12 مارچ کو حکومت کو پسند کرنے والوں کی ریٹنگ 55.28 تھی۔

ٹریکر کا نتیجہ اس سروے پر مبنی ہے جن میں لوگوں سے بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کے بارے میں پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ حکومت سے ’بہت مطمئن‘ ہیں، ’کچھ حد تک مطمئن‘ ہیں اور ’نہیں جانتے/نہیں کہہ سکتے‘ ہیں۔

7 مارچ کو 51.32 فیصد جواب دینے والوں نے کہا تھا کہ وہ حکومت کی کارکردگی سے بہت مطمئن ہیں۔ حالانکہ سروے میں شامل سبھی لوگوں کے جواب کو دھیان میں رکھتے ہوئے حکومت کے لیے لوگوں کی نیٹ ایپروول ریٹنگ میں لگاتار گراوٹ رہی ہے اور یہ پلوامہ حملے کے واقعہ سے پہلے کی سطح پر آ رہی ہے۔

یکم جنوری کو حکومت کو پسند کرنے کی ریٹنگ 32.4 تھی اور وسط فروری کے بعد جب پلوامہ حملہ ہوا تھا تب لگاتار بڑھنے سے پہلے پورے مہینے کے لیے 30 اور 40 کے درمیان بنی رہی اور اس کے بعد بالاکوٹ میں جیش محمد (جے ای ایم) کے خلاف ہوائی حملے کی کارروائی کے بعد ریٹنگ میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔