مغربی یو پی میں اتحاد کے سامنے مودی کا جادو بے اَثر، بی جے پی کو 7 سیٹوں کا نقصان

یو پی میں ایس پی۔بی ایس پی اتحاد کے سارے اعداد و شمار کو غلط ثابت کرتے ہوئے بی جے پی نے ریاست کی 80 سیٹوں میں سے 62 پر کامیابی درج کی ہے لیکن مغربی خطے میں بی جے پی پوری طرح سے ناکام ثابت ہوئی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

سال 2014 کے عام انتخابات میں بی جے پی اور اس کی اتحادی پارٹیوں نے ریاست کی 73 سیٹوں پر کامیابی درج کی تھی جس میں سے بی جے پی کے پاس 71 سیٹیں تھیں۔ جبکہ اس الیکشن میں پارٹی اور اس کی اتحادی اپنا دل نے 64 سیٹوں پر کامیابی درج کی جن میں سے بی جے پی کے پاس 62 سیٹیں ہیں۔

اس بار بی جے پی کو دس سیٹوں کا نقصان ہوا ہے۔ جن میں سے سات سیٹیں مغربی اترپردیش کی ہیں اور تین سیٹیں مشرقی اتر پردیش کی ہیں۔ لیکن وہ کانگریس کے رسوخ والے امیٹھی پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہی۔ بی جے پی نے بندیل کھنڈ کی تمام چار سیٹوں اور سنٹرل یو پی کی اکثر سیٹوں پر جیت کا پرچم لہرایا ہے۔

بھگوا پارٹی وقار کی حامل پارلیمانی سیٹ سہارنپور کو بی ایس پی کے حاجی فضل الرحمان سے ہار گئی جہاں سے بی جے پی کے موجودہ رکن پارلیمان راگھولکھن پال امیدوار تھے۔ ان کو 22 ہزار ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بی جے پی کو مرادآباد خطہ جو کہ چھ سیٹوں پر مشتمل ہے ان تمام پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس علاقے میں ایس پی۔ بی ایس پی کو تین ۔تین سیٹیں ملیں۔ ان تمام سیٹوں پر اس سے پہلے بی جے پی کا قبضہ تھا۔

سماج وادی پارٹی نے مرادآباد، سنبھل اور رامپور پارلیمانی حلقوں پر جیت درج کی۔ جہاں رامپور میں اعظم خان نے بالی ووڈ اداکارہ جیہ پردہ کو شکست دی، مرادآباد میں ایس ٹی حسن نے اپنے قریبی حریف بی جے پی امیدوار کنور سرویش سنگھ کو 97878 ووٹوں سے شکست فاش دی جبکہ سنبھل میں شفیق الرحمان برق نے پرمیشور لال سینی کو 174826 ووٹوں سے شکست دی۔

وہیں دوسری جانب اس خطے میں بی ایس پی کے کھاتے میں امروہہ، بجنور اور نگینہ کی سیٹیں آئیں۔ امروہہ میں کنور دانش علی نے کنور سنگھ کو 63 ہزار ووٹوں سے، بجنور میں ملوک ناگر نے بی جے پی راجا بھارتیندرسنگھ کو 69941 ووٹوں سے جبکہ نگینہ میں گریش چندرا نے ڈاکٹر یشونت سنگھ کو تقریباً ایک لاکھ 66 ہزار ووٹوں سے شکست دی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مغربی اترپردیش کو تمام پارٹیوں نے سب سے زیادہ ترجیح دی تھی۔ ایس پی۔ بی ایس پی اتحاد نے اپنی مشترکہ ریلی کا آغاز اسی خطے کے دیوبند سے کیا تھا جہاں پر بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے مسلموں سے اتحاد کے حق میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی تھی جس کے پاداش میں انہیں الیکشن کمیشن کی جانب سے48 گھنٹے کی پابندی جھیلنی پڑی تھی۔

بی جے پی لیڈروں نے بھی اپنے انتخابی تشہیر کا آغاز مغربی اترپردیش سے ہی کیا تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے انتخابی مہم کا آغاز میرٹھ سے کیا تھا جبکہ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنی مہم جوئی سہارنپور سے کی تھی۔ علی۔بجرنگ بلی کا معاملہ بھی مغربی اترپردیش سے ہی سرخیوں میں آیا تھا۔

مشرقی اترپردیش میں بی جے پی کو غازی پور،جونپور اور لال گنج میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ غازی پور میں وفاقی وزیر منوج سنہا کو بی ایس پی امیدوار افضال انصاری سے 120000 ووٹوں سے پیچھے رہ گئے تو وہیں جونپور میں کے پی سنگھ کو بی ایس پی کے شیام سنگھ یادو نے شکست دی ۔لال گنج سیٹ پر بی جے پی کے موجودہ رکن پارلیمان نیلم سونکر کو بی ایس پی کی سنگیتا نشاد نے 1.60 لاکھ ووٹوں سے ہرایا۔

Published: 25 May 2019, 2:10 PM