قومی

ملک بھر میں مودی کی زبردست لہر، بی جے پی کو 350 سیٹیں حاصل

کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے پارٹی کی شکست قبول کرتے ہوئے وزیراعظم مودی کو شاندار جیت کے لئے مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے امیٹھی سیٹ پر اپنی حریف مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کو بھی مبارکباد دی ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت پر سوار بھارتیہ جنتا پارٹی اس مرتبہ لوک سبھا انتخابات میں نہ صرف جیت حاصل کر رہی ہے بلکہ مغربی بنگال اور اڈیشہ میں بھی اس نے اپنی حالت مضبوط کرکے مخالفین کی بولتی بند کردی ہے۔

بی جے پی کی زبردست جیت کے آگے ملک کی سب سے پرانی پارٹی کانگریس کہیں ٹک نہیں سکی ہے اور وہ پچاس سیٹوں کے آس پاس سمٹ کر رہ گئی ہے جس کے سبب گزشتہ بار کی طرح وہ اس بار بھی لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر کا عہدہ حاصل کرنے کی حالت میں نہیں لگ رہی۔ کانگریس کی کراری شکست سے صاف ہے کہ عوام نے اس کی ’نیائے‘ یوجنا کو پوری طرح خارج کردیا ہے۔

کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے پارٹی کی شکست قبول کرتے ہوئے وزیراعظم مودی کو شاندار جیت کے لئے مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے امیٹھی سیٹ پر اپنی حریف مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کو بھی مبارکباد دی ہے۔

پی ایم مودی کی مقبولیت اور بی جے پی کے صدر امت شاہ کی تنظیمی مہارت کی مدد سے بی جے پی پہلی بار لوک سبھا میں 300 کا اعداد چھو رہی ہے اور مسلسل دوسری مرتبہ مرکز میں اس کی اکثریت والی حکومت بنے گی۔ 1971 کے بعد یہ دوسرا موقع ہوگا جب کسی وزیراعظم کی قیادت میں ان کی پارٹی مسلسل دوسری مرتبہ اکثریتی حکومت بنانے والی ہے۔

بی جے پی نے 2014 کی طرح اس بار بھی مغرب اور شمالی ہندوستان میں یکطرفہ جیت درج کی۔ اس نے مشرقی ریاستوں مغربی بنگال اور اڈیشہ میں بھی اپنی کارکردگی بہتر کی ہے۔ گزشتہ دسمبر میں جن تین ریاستوں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں اسے حکومت سے ہاتھ دھونا پڑا تھا وہاں بھی ان انتخابا ت میں اس نے شاندار کامیابی حاصل کی ہے اور کانگریس کو کراری شکست دی ہے۔ اس الیکشن میں شاندار کارکردگی کے بعد اب جنوبی ہندوستان کی صر ف چار ریاستوں آندھراپردیش، تلنگانہ، تمل ناڈو اور کیرالہ میں ہی اس کی حالت کمزور رہ گئی ہے۔

انتخابات کے نتائج سست رفتار سے آرہے ہیں۔ شام چھ بجے تک صرف 43 سیٹوں کے نتائج آئے ہیں جن میں سے 27 بی جے پی کے حق میں گئی ہیں جبکہ سات سیٹیں کانگریس اور ایک ایک ایک سیٹ اس کی اتحادی جماعت جنتادل (ایس)، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، نیشنل کانفرنس اور ڈی ایم کے کو ملی ہیں۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی کو دو، لوک جن شکتی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کو ایک ایک سیٹ ملی ہے۔ نتائج اور ووٹوں کی گنتی کے رجحانات میں ملی سبقت کی بنیاد پر بی جے پی 303سیٹیں جیتنے والی ہے۔ یہ اس کی اب تک کی سب سے اچھی کارکردگی ہے۔ بی جے پی کی اتحادی جماعت شیو سینا کو 18، جنتادل یونائیٹڈ کو 16 اور لوک جن شکتی پارٹی کو چھ سیٹیں مل رہی ہیں۔

کانگریس کے صدر راہل گاندھی کی زبردست انتخابی تشہیر اور پرینکا گاندھی کو جنرل سکریٹری کے طور پر اتارنے کے باوجود پارٹی کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔ وہ سیٹوں کے معاملہ میں پچھلی بار کے آس پاس ہی ہے۔ کیرالہ اور پنجاب نے کچھ حد تک پارٹی کی عزت بچا لی ہے، نہیں تو اس کی کارکردگی پچھلی بار سے بھی نیچے جاسکتی تھی۔ اب تک اعلان شدہ نتائج میں دو اس کے حق میں گئے ہیں جبکہ 48 سیٹوں پر اس کے امیدوار آگے ہیں۔ راہل گاندھی امیٹھی سے ہار گئے ہیں لیکن کیرالہ کی وائناڈ سیٹ پر انہوں نے اچھی سبقت لے رکھی ہے۔

مغربی بنگال میں مودی کی مقبولیت کے آگے ترنمول کانگریس کو اس بار زبردست نقصان ہوا ہے اور اسے 23سیٹیں ہی مل رہی ہیں۔ آندھراپردیش میں جگن موہن ریڈی کی وائی ایس آر کانگریس نے تیلگو دیشم پارٹی کو کراری شکست دیتے ہوئے ریاست میں اقتدار سے باہر کردیا ہے اور لوک سبھا انتخابات میں بھی اس کا صفایا کردیا ہے۔ وہ لوک سبھا کی 25 میں سے 22 سیٹوں پر آگے ہے۔

کانگریس اور دراوڑ منیتر کزگم (ڈی ایم کے) کا اتحاد تملناڈو میں شاندار کارکردگی کر رہا ہے۔ ایم کروناندھی کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے اسٹالن کی قیادت میں ڈی ایم کے نے زبردست واپسی کی ہے۔ پارٹی کے امیدوار 23 سیٹوں پر سبقت حاصل کیے ہوئے ہیں جبکہ کانگریس کو 8 سیٹیں مل رہی ہیں۔ دو دو سیٹوں پر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اور مارکسی کمیونسٹ پارٹی آگے ہے۔ ریاست میں برسراقتدار اے آئی اے ڈی ایم کے کو بڑا نقصان جھیلنا پڑا ہے اور اسے صرف ایک سیٹ پر اکتفا کرنا پڑسکتا ہے۔