اقتدار کی ہوس میں تصور سے زیادہ نیچے گر تے جا رہے ہیں وزیر اعظم

کوئی شخص اقتدار کی ہوس میں اس قدر گر جائے گا کہ جن لوگوں نے ملک کے لئے اپنی جان قربان کی ہو ان کے لئے ایسے الفاظ استعمال کرے گا تو ایسے شخص کا خدا ہی حافظ ہے

سوشل میڈیا 
سوشل میڈیا
user

تسلیم خان

وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک انتخابی تقریر میں شہید وزیر اعظم راجیو گاندھی کے تعلق سے جو کہا اس سے پورے ملک کا سر شرم سے جھک گیا ہے ۔ نریندر مودی نے کہا کہ ’’آپ کے والد(شہید راجیو گاندھی) کو بھلے ہی لوگ مسٹر کلین کہتے ہوں لیکن ان کا انتقال بدعنوان نمبر ایک طور پر ہوا ‘‘۔ کانگریس صدر راہل گاندھی کیا ملک کے ہر ذی شعور شخص نے مودی کے اس بیان کی سخت الفاظ میں تنقید کی ہے ۔

’’یہ شخص (مودی) اس حد تک گرتا جا رہا ہے جہاں تک کسی نے اس سے قبل تصور بھی نہیں کیا ہو گا‘‘ ٹویٹر پر جو متعد د رد عمل سامنے آئے ہیں یہ ان میں سے ایک ہے ۔ وزیر اعظم کے اس بیان نے دنیا کے سامنے ملک کا سر شرم سے جھک گیا ہے اور وزیر اعظم کے عہدے کا معیار تار تار ہو گیا ہے لیکن سنگھ کے سائے میں نفرت اور غیر اخلاقیات کی پرورش میں پلے بڑھے کسی شخص سے اور امید بھی کیا کی جا سکتی ہے ۔

معروف صحافی نکھل واگلے نے ٹویٹ کر کے کہا ہے ’’یہ شخص ہر روز اپنے بے ہودہ رویہ سے سب کو چونکا دیتا ہے ۔ آخر کار کسی تہذیب یافتہ ملک کا یہ وزیر اعظم کیسے ہو سکتا ہے ‘‘۔

وزیر اعظم اپنی شکست کے خوف سے اتنے گھبرا گئے ہیں کہ ان کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہے کہ جس شخص کے بارے میں وہ یہ الفاظ استعمال کر رہے ہیں اس شخص نے ملک کے لئے اپنی جان کی قربانی دی ہے اور جس کی پچھلی چار پیڑھیاں ملک کی خدمت کر رہی ہیں ۔ مودی کے اس بیان سے پوری دنیا حیران ہے ۔

وزیر اعظم کے اس انتہائی شرمناک بیان پر کانگریس صدر راہل گاندھی اور جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے اپنے رد عمل کا اظہار اتنے مہذب انداز میں کیا ہے کہ اس سے ہی نریندر مودی کا سر شرم سے جھک جانا چاہئے ۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے ٹویٹ کر کے کہا ہے ’’ مودی جی ، لڑائی ختم ہو چکی ہے ، آپ کے اعمال آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ اپنے بارے میں آپ کا جو خیال ہے وہ آپ بھلے ہی میرے والد پر تھوپیں لیکن یہ بھی آپ کو نہیں بچا پائے گا ۔ میری ساری محبت اور بڑی سئ جھپی آپ کے لئے ‘‘۔

دوسری جانب کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے مودی کے بیان پر سخت حملہ بولتے ہوئے کہا ہے کہ ’’شہیدوں کے نام پر ووٹ مانگ کر ان کی شہادت کی بے عزتی کرنے والے وزیر اعظم نے کل اپنی بے لگام سنک میں ایک نیک اور پاک انسان کی شہادت کی بے عزتی کی ہے ۔ جواب امیٹھی کے عوام دیں گے جن کے لئے راجیو گاندھی نے اپنی جان دی تھی ۔ ہاں ، مودی جی یہ ملک دھوکہ بازوں کو کبھی معاف نہیں کرتا‘‘۔

سابق وزیر خزانہ پی چدامبرم نے مودی کے اس بیان کی تنقید کرتے ہوئے انہیں اس تہذیب کی یاد دلائی جس میں مرنے والے شخص کی بے عزتی نہیں کی جاتی ۔ انہوں نے لکھا ’’ مرنے والے شخص کے بارے میں کبھی برا نہ بولیں ۔ کیا وزیر اعظم نے یہ قدیمی کہاوت سنی ہے ؟ کیا کوئی مذہب کسی مرنے والے شخص کی بے عزتی کرنے کی اجازت دیتا ہے ؟‘‘ انہوں نے آگے تحریر کیا ہے کہ راجیو گاندھی کے خلاف دینے والے بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سامنے دکھ رہی شکست سے کتنے خوفزدہ ہیں

مورخ آرڈی ٹرشکے مودی کے اس بیان پر حیران ہیں ۔ وہ لکھتی ہیں ’’ایک مرحوم حب الوطن کی بے عزتی کر کے مودی نے عوام کی تنقید اور غصہ کو دعوت دی ہے ۔ اس سے مودی کی بوکھلاہٹ اور ذہنی بیمار ہونے کا پتہ چلتا ہے ۔ ٹرمپ کے امریکہ میں رہنے والے میرے جیسے لوگوں کا اس بارے میں کہنا ہے کہ یہ ایک سنجیدہ بات ہے اور انتخابات مودی کے لئے نہیں ملک کے لئے ہو رہے ہیں‘‘

معروف صحافی سگاریکا گھوش نے لکھا ہے کہ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کا قتل ملک کے دشمنوں نے کیا تھا کیا ایسے وزیراعظم کو گالی دے کر ووٹ بٹورے جا سکتے ہیں؟ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’ہندوستان اخلاقیات کے خاتمہ کے گہرے کنویں میں دھکیلا جا رہا ہے ‘‘۔ ادھر سینئر ایڈیٹر شیکھر گپتا نے لکھا ہے کہ ’’راجیو گاندھی ایک ایسے حب الوطن تھے جنہوں نے انتہائی مشکل وقت میں ملک کی باگڈور سمبھالی تھی ‘‘۔

معروف سیاسی کالم نگار سدھیر کلکرنی نے تحریر کیا ہے کہ ’’کیا ہندوستان میں کبھی کوئی ایسا وزیر اعظم بھی ہوا ہے جو صرف اپنے بارے میں بولتا رہتا ہو جس میں سیاسی اخلاقیات زرا سی بھی نہیں ہے ‘‘۔ انہوں نے آگے لکھا ہے کہ ’’راجیو گاندھی ملک پر شہید ہونے والے وزیر اعظم نمبر دو تھے نہ کہ بدعنوان نمر ایک ۔ ان کی والدہ شہید ہونے والی وزیر اعظم نمبر ایک تھیں‘‘۔

next