سی اے اے-این آر سی پر بیداری پھیلانے کے لیے منتخب بی جے پی وزراء خود اس قانون سے نابلد

یو پی حکومت میں وزیر شری رام چوہان چترکوٹ پہنچے تو ان سے شہریت قانون اور این آر سی کا مطلب پوچھا گیا۔ اس سوال پر وزیر محترم بغلیں جھانکنے لگے اور پھر یہ کہہ کر چلتے بنے کہ ’پھر کبھی پوچھ لیجیے گا‘۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بی جے پی نے اپنے جن وزراء اور اراکین اسمبلی کو شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور قومی شہری رجسٹر (این آر سی) کے بارے میں بیداری مہم چلانے کی ذمہ داری سونپی ہے، انھیں خود سی اے اے اور این آر سی کے بارے میں تفصیل معلوم نہیں ہے۔ اتر پردیش کے چترکوٹ میں گزشتہ دن جو کچھ دیکھنے کو ملا اس سے تو کچھ ایسا ہی اندازہ ہوتا ہے کیونکہ لوگوں کو سی اے اے اور این آر سی کے بارے میں سمجھانے جب وزیر زراعت شری رام چوہان پہنچے تو وہاں کچھ نامہ نگار بھی موجود تھے۔ ان نامہ نگاروں نے جب ان سے سی اے اے کا مطلب پوچھا تو وہ بغلیں جھانکتے ہوئے نظر آئے۔

دراصل ملک کے کئی حصوں میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف لگاتار ہو رہے احتجاجی مظاہروں سے بی جے پی حکومت پریشان ہے۔ اسی لیے حکومت گھر گھر جا کر سی اے اے اور این آر سی کے بارے میں بتانے کے لیے مہم شروع کر چکی ہے اور لوگوں سے کہہ رہی ہے کہ اس قانون سے کسی کی شہریت نہیں جائے گی۔ اسی مہم کے پیش نظر ریاستی وزیر برائے زراعت شری رام چوہان چترکوٹ پہنچے اور ضلع ہیڈ کوارٹر میں بی جے پی کے تمام عہدیداروں کے ساتھ شانتی مارچ نکالا۔ اس مارچ میں انھوں نے لوگوں میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی۔

بیداری مہم کے دوران جب وہاں موجود نامہ نگاروں نے ان سے سی اے اے اور این آر سی کا مطلب پوچھا تو وزیر محترم اِدھر اُدھر جھانکتے نظر آئے اور کچھ دیر خاموشی اختیار کرنے کے بعد انھوں نے صرف اتنا کہا کہ ’’پھر کبھی پوچھ لیجیے گا۔‘‘ وزیر زراعت کی یہ حالت دیکھنے لائق تھی اور کچھ لوگوں نے اس واقعہ کا ویڈیو بھی بنا لیا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔

کچھ اسی طرح کا واقعہ اتر پردیش کے ہی باندہ ضلع واقع نرینی سیٹ سے رکن اسمبلی راج کرن کبیر کے ساتھ پیش آیا۔ پیر کے روز جب ایک نامہ نگار نے ان سے سی اے اے اور این آر سی کا انگریزی فل فارم اور ہندی میں اس کا مطلب جاننا چاہا تو ان کا جواب تھا کہ ’’یہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ بتائیں گے، ہم تو ان کے اشارے پر سب کچھ کر رہے ہیں۔‘‘ مطلب صاف ہے کہ بھلے ہی پی ایم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے وزراء اور لیڈروں کو سی اے اے و این آر سی کی حمایت میں مہم چلانے کی ذمہ داری دے دی ہے، لیکن انھیں اچھی طرح اس سلسلے میں ٹرینڈ بھی نہیں کیا ہے۔