طنز و مزاح: اسمبلی انتخابات میں ہار کے بعد ’شکست ریلی‘ سے مودی جی کا خطاب!

مودی جی اپنی تقریر کے لئے مشہور ہیں، وہ ہر ایک انتخابات کے بعد تقریر کرتے ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ حال ہی میں آئے اسمبلی انتخابی نتائج کے بعد مودی جی اپنی تقریر دیں، جو شاید اس طرح ہوگی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

وشنو ناگر

وزیر اعظم نریندر مودی منہ زوری کے لئے جانے جاتے ہیں۔ زور زور سے لمبے لمبے بھاشن دینا اور ایک دن میں کئی کئی بھاشن دینا ان کا شغل ہے۔ انتخابات میں پارٹی کی جیت کے بعد تو مودی جی لازمی بھاشن دیتے ہیں۔ اب اس مرتبہ اسمبلی انتخابات کے نتائج تو الٹے آ گئے لیکن مجھے پھر بھی یقین ہے کہ اس مرتیہ بھی مودی جی ضرور تقریر دیں گے اور تقریر کچھ اس طرح ہوگی۔

مترو! ہمارے کچھ ارکان پارلیمنٹ دوستوں کی صلاح تھی کہ جب بھی ہم کسی ریاست میں جیت درج کرتے تھے تو پارٹی کے صدر دفتر پر ’فتح ریلی‘ کیا کرتے تھے تو اس مرتبہ ’شکست ریلی‘ بھی کرنی چاہیے۔ آپ تو جانتے ہو میرا چھپن انچ کا سینہ ہے تو میں نے اسے ساٹھ انچ پھلاتے ہوئے کہا ٹھیک ہے، کرتے ہیں۔ تو مترو، یہ ہماری ’شکست ریلی‘ ہے۔ میں نے تو راہل گاندھی سے کہا تھا کہ ہماری شکست ریلی میں شکست کا ہار آپ پہنا جاؤ لیکن انہوں نے مؤدبانہ طریقہ سے انکار کر دیا۔ میں نے ان سے کہا کہ ارے بھائی مجھے نہیں، شاہ جی کو پہنانا ہے تو بھی وہ نہیں مانے۔ عجب انسان ہیں۔ اسے بھی انہوں نے انکار کر دیا۔ خیر۔

تو بات یہ ہے مترو کہ آج میں یہ بات صاف کر دینا چاہتا ہوں کہ مودی کو کسی راہل گاندھی، کسی کانگریس نے نہیں ہرایا۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم مودی-شاہ بھائیوں کو چناؤ جیتنا نہیں آتا۔ خوب آتا ہے، سب سے زیادہ ہمیں کو آتا ہے لیکن سچ بات تو یہ ہے کہ اس مرتبہ ہم نے طے کیا تھا کہ ہم کب تک جیتتے رہیں! جیتتے جیتتے بھی میں بھی تھک گیا تھا، امت شاہ بھی تھک گئے تھے۔ مجھے اس سے آزادی دلائے۔ پربھو! کمر دکھنے لگی بیٹھے بیٹھے۔ ادھر رمن سنگھ کی طرف سے بھی یہی ڈیمانڈ آئی۔ وسندھرا کو تو پانچ سال ہی ہوئے تھے لیکن ہماری پارٹی کے کچھ نامور ایسے بھی ہیں جو جلدی ہی تھک جاتے ہیں۔

ہمارے وزیر، رکن اسمبلی بھی کہہ رہے تھے کہ مودی جی بے چاری کانگریس کو بھی موقع دو نہ، راہل گاندھی کو بھی آگے آنے دو۔ نیا خون ہے، جمہوریت کا بوجھ اٹھا کر وہ بھی تو دیکھے۔ من کی بات کرنے کا مجھے تجربہ ہے، اس لئے صرف آپ کو بتا رہا ہوں کہ 12 سال تو ہو گئے تھے مجھے وزیر اعلیٰ رہتے رہتے اور پانچ سال سمجھو ہو ہی گئے وزیر اعظم بنے۔ اب میں نے بھی سمجھ لیا ہے کہ انتھک محنت سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ چاہے ڈریس بدلنے اور بیرونی دورے کرنے کی محنت ہی کیوں نہ ہو اور اگر آپ نہیں تھکتے تو عوام آپ سے تھک جاتے ہیں۔ لہذا اب میں بھی آرام کرنا چاہتا ہوں۔ کم از کم پانچ سال تو آرام کرنا چاہتا ہی ہوں اور اگر آپ کی اجازت ہو تو 10 سال بھی، اس کے بعد تو کوئی پوچھے گا بھی نہیں کہ مودی آپ ٹھیک ہو؟ تو پھر مستقل آرام رہے گا!۔

تو مترو! ہماری قسمت نہیں تھی، یہ تو ہماری سوچی سمجھی ٹھوس حکمت عملی کا نتیجہ تھی۔ جسے نوٹ بندی کی طرح میں نے اور پارٹی صدر نے رازداری سے سوچ سمجھ کر بنائی تھی۔ تاکہ ہم تینوں ریاستوں میں یقینی طور پر ہار جائیں۔ اور اس حکمت عملی کو ہم نے اس طرح بنایا کہ سب کو لگے کہ ہم جیتنے کی پر زور کوشش کر رہے ہیں اور کسی کو سمجھ نہ آئے کہ ہم دراصل ہارنے کی کوشش جی جان سے کر رہے ہیں۔ اس لئے آپ دیکھیں کہ جہاں جہاں میں گیا، پارٹی ہاری۔ جہاں جہاں شاہ گئے، پارٹی ہاری۔ جہاں جہاں یوگی گئے، بھائی نے ایسا کمال کا یوگ کیا کے جو لٹیا ڈوبنے کو تیار نہیں تھی اسے بھی ڈبو کر ہی آئے۔

اب ایسا نہیں کہ ہم سنتوں کے جہاں جہاں بھی پیر پڑے وہاں ہار ہی ہوئی ہو۔ کچھ امیدوار ایسے بھی تھے جو ہارنے کو تیار نہی نہیں تھے، مان ہی نہیں رہے تھے۔ ضد پر اڑے تھے کہ ہم ہار گئے تو ہارٹ اٹیک آجائے گا، تو ہم نے کہا کہ چل نہیں مانتا تو جیت کے دیکھ لے۔ پچھتائے گا، جھ کچھو ہاتھ نہیں لگے گا، تو جااسمبلی میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جا وہاں جا کر رام نام جپنا۔ پرایا مال جب کھانے کو نہیں ملے گا تب ہارٹ اٹیک پڑے گا، بھگت!

تو یہ کانگریس کی، راہل گاندھی کی حکمت عملی کی جیت نہیں، ہماری جیت ہے۔ ہم جیتے ہیں، راہل ہارے ہیں۔ ہم جیتے ہیں، کانگریس ہاری ہے۔ ہم جیتے ہیں جنتا ہاری ہے اور ابھی اور ہارے گی، جب میں اسے الو بنا کر ہراؤوں گا۔ جنتا سمجھے گی کہ وہ جیتی ہے، ہم سمجھیں گے کہ ہم جیتے ہیں اور راہل گاندھی سمجھیں گے کہ وہ جیتے ہیں۔ کتنی بڑھیا، کتنی انوکھی! کتنی میری جیکٹ، میرے کرتے، میرے پائجامے کی طرح ایک دم نیو نیو پالیسی! 2019 کے بعد لوگوں کو میں خود یہ بات بتاؤوں گا، یہ میرے من کی بات ہے، بتاوؤں گا ضرور۔

ایک طرح سے بھی ہماری یہ فتح ریلی ہی ہے۔ آخر میں بولو جے مودی، جے مودی، جے مودی۔