’مودی جی، کیا آپ کی ناکامیوں کا بوجھ صرف غریب اٹھائیں گے؟‘ اُجولا یوجنا میں کٹوتی پر راہل گاندھی کا سخت ردعمل
کانگریس رہنما راہل گاندھی کے مطابق ارب پتی دوستوں کا لاکھوں کروڑوں کا قرض معاف کرانا اور غریبوں کو اپنی ناکامیوں کا بل تھمانا، یہ لوٹ کا مودی ماڈل ہے۔

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ایک بار پھر مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’12 سال کی غریب مخالف اقتصادی پالیسیوں اور کمپرومائزڈ خارجہ پالیسی نے آج ملک کو ایسے حالات میں لا کھڑا کر دیا ہے جہاں لاکھوں غریب خاندانوں اور خواتین کو لکڑی کے زہریلے دھوئیں کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔‘‘
اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں راہل گاندھی مزید لکھتے ہیں کہ ’’اجولا یوجنا میں سبسڈی والے سلنڈروں کی تعداد 9 سے گھٹا کر 4 کر دی گئی۔ اس پر گزشتہ 3 ماہ میں گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 89 روپے کا اضافہ کر دیا گیا۔ مطلب پہلے قیمت بڑھاؤ، پھر سبسڈی گھٹاؤ، غریبوں کا چولہا بجھاؤ۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’مہاجر مزدوروں کی لائف لائن سمجھے جانے والے 5 کلو کا سلنڈر بھی 323 روپے مہنگا کر دیا گیا۔ وہ کمائے گا کیا، کھائے گا کیا اور بچائے گا کیا؟‘‘
کانگریس رہنما راہل گاندھی کے مطابق ارب پتی دوستوں کا لاکھوں کروڑوں کا قرض معاف کرانا اور غریبوں کو اپنی ناکامیوں کا بل تھمانا، یہ لوٹ کا مودی ماڈل ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’مودی جی، کیا آپ کی ناکامیوں کا بوجھ صرف غریب اٹھائیں گے؟ کیا آپ کی بنائی ہوئی اس تباہ حال معیشت کی قیمت مزدور، کسان، خواتین اور متوسط طبقہ ہی چکائیں گے؟‘‘
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے ’پی ایم یو وائی‘ (پردھان منتری اُجولا یوجنا) کے اصولوں میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے سالانہ سبسیڈی والے ایل پی جی سلنڈر کی ریفل کی تعداد 9 سے گھٹا کر 4 کر دی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اُجولا یوجنا کے تحت آنے والے کنبوں کو سال میں محض 4 سلنڈرز پر ہی اضافی سبسیڈی کا فائدہ مل سکے گا۔ خبر رساں ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے پیر کے روز اس سلسلے میں جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلی اوسط گھریلو مصرف کو توجہ میں رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ 2016 میں شروع ہوئے اس منصوبہ کے تحت پہلے استفادہ کنندہ کو سال میں 14.2 کلوگرام کے 12 سلنڈر سبسیڈی پر ملتے تھے۔ پھر پچھلے سال سبسیڈی والے سلنڈر کی تعداد گھٹا کر 9 کر دی گئی تھی، جسے اب مزید گھٹا کر 4 کر دی گئی ہے۔
