’مودی ڈرے ہوئے ہیں، انھیں ڈرنا بھی چاہیے‘، الیکشن کمیشن کے دفاع میں اترے بی جے پی ترجمانوں پر کانگریس کا حملہ

راگنی نایک کے مطابق ملک کے طلبا، نوجوان اور جین-زی عزم کر چکے ہیں کہ ہوا کا رخ بدلنا ہے۔ اسی خوف کے سبب الیکشن کمیشن پر جب بھی سوال اٹھتا ہے تو مودی اپنے ترجمانوں کو اس کے دفاع کے لیے بھیج دیتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>کانگریس لیڈر ڈاکٹر راگنی نائک / قومی آواز / وپن</p></div>
i

’’ہمارے ملک میں چور ووٹ بھی چرا رہا ہے اور ہیرا پھیری بھی کر رہا ہے۔ یہ ہیرا پھیری ملک کے نوجوانوں کے ووٹ کے ساتھ کی جا رہی ہے۔ ملک میں ہر سال خصوصی مختصر نظرثانی (ایس ایس آر) کا عمل ہونا لازمی ہوتا ہے، جس میں 18 سال کی عمر مکمل کرنے والے نوجوانوں کے نام ووٹر لسٹ میں جوڑے جاتے ہیں۔ لیکن گیانیش کمار نے اس عمل کو 2024 سے روک کر رکھا ہے۔‘‘ یہ بیان کانگریس کی سینئر لیڈر راگنی نایک نے آج ایک پریس کانفرنس کے دوران دیا۔ انھوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہدف تنقید بناتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’جیسے ہی گیانیش کمار نام کی کٹھ پتلی کا پردہ فاش ہوا، تو انھوں نے اپنی عزت بچانے کے لیے آناً فاناً میں 30-29 ستمبر کو ’یوتھ رجسٹریشن کیمپ‘ لگانے کی ہدایت دے دی۔ یہی نہیں، گیانیش کمار نے میرٹھ اور وارانسی کا اپنا وہ پروگرام بھی رد کر دیا، جس میں وہ جین-زی کو ووٹ سے متعلق جانکاریاں دینے والے تھے۔ یعنی اب وہ منھ چھپانے کی جگہ تلاش کر رہے ہیں۔‘‘

پریس کانفرنس میں راگنی نایک نے راجیو گاندھی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’1988 میں راجیو گاندھی کی حکومت نے آئین ترمیم کر اس وقت کے جین-زی کو حکومت منتخب کرنے کے عمل میں شامل کیا۔ ووٹ دینے کی کم از کم عمر 21 سال سے گھٹا کر 18 سال کرنے کا تاریخی فیصلہ لیا۔ اب اس کے برعکس ملک کے طلبا، جین-زی اور نوجوانوں سے خوفزدہ مودی حکومت ہر طرح کا حربہ استعمال کر رہی ہے تاکہ ان کا نام ووٹر لسٹ میں شامل نہ ہو سکے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اسی مقصد کے تحت حکومت نے کٹھ پتلی الیکشن کمیشن کے ذریعہ ’اسپیشل سمری ریویزن‘ (ایس ایس آر) کو رکوایا ہے۔‘‘


نوجوانوں کے لیے کانگریس حکومت کے ذریعہ کیے گئے کچھ اہم کام بھی راگنی نایک نے میڈیا کے سامنے رکھے۔ انھوں نے کہا کہ ’’یکم اپریل 2010 کو آئین کے آرٹیکل 21(اے) کو اثردار بناتے ہوئے تعلیم کے حق کو بنیادی حق بنایا گیا۔ منموہن سنگھ کی حکومت اس ملک میں تعلیم کا حق قانون (آر ٹی ای) لے کر آئی، جس میں 6 سال سے 14 سال کے بچوں کو مفت تعلیم دیے جانے کی بات رکھی گئی۔‘‘ یہ جانکاری دینے کے بعد مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ’’جب نریندر مودی حکومت میں آئے تو انھوں نے تعلیم کا بجٹ گھٹا کر تقریباً نصف کر دیا۔ تعلیمی اداروں میں آر ایس ایس کے لوگوں کو بھر دیا۔ ہر طرف پرائیویٹائزیشن پھیلا دیا اور پیپر لیک مافیا کو تحفظ فراہم کیا۔ مجموعی طور پر تعلیمی نظام کا بنٹادھار کر دیا۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’جب طلبا نے بدعنوان تعلیمی نظام کے خلاف آواز اٹھائی تو مودی حکومت نے ان پر لاٹھیاں چلوائیں، پیلیٹ گن اور اے کے-47 سے حملہ کروایا‘‘

الیکشن کمیشن کو نشانے پر لیتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’الیکشن کمیشن نے جولائی 2026 میں چوری چھپے فارم 6-اے میں ایک ضروری سیکشن جوڑ دیا، جس میں یہ جانکاری طلب کی جاتی ہے کہ آپ کے والدین اور دادا-دادی کہاں کے ووٹر تھے۔ حالانکہ ’ریپریزنٹیشن آف دی پیپل ایکٹ‘ الیکشن کمیشن کو فارم 6-اے میں اس طرح کی کوئی تبدیلی کرنے کا حق نہیں دیتا۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’جو الیکشن کمیشن خود اقلیت میں ہے، اس نے ایس آئی آر کا تیسرا مرحلہ کرا کر 13 کروڑ 80 لاکھ ووٹرز کو ووٹ دینے کے عمل سے باہر کر دیا، جو انتہائی افسوسناک ہے۔‘‘ انھوں نے اس حقیقت کو بھی ظاہر کیا کہ 2 الیکشن کمشنرز مستقل کہہ رہے تھے کہ یہ غیر قانونی ہے، نئے ووٹرز کو جوڑنے کا عمل آسان بنایا جانا چاہیے، لیکن گیانیش کمار لگاتار جمہوری و آئینی قانون کا مذاق بناتے رہے اور ووٹ چوری کرتے رہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔