’اروناچل میں چین کے اشتعال پر مودی حکومت کی خاموشی‘، راہل-کھڑگے کا وزیر اعظم سے جواب طلب

کانگریس نے اروناچل میں چین کی اشتعال انگیز سرگرمیوں پر مودی حکومت سے جواب طلب کیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ فوج کو گشت سے روکا کیا، جبکہ کھڑگے نے اس کی تکسنگ اور شیرا-5 تک رسائی پر سوال اٹھائے

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی، ملکارجن کھڑگے / سوشل میڈیا</p></div>
i

نئی دہلی: اروناچل پردیش میں چین کی اشتعال انگیز سرگرمیوں اور ہندوستانی فوج کے گشت سے متعلق کانگریس کے دعووں پر سیاسی تنازعہ بڑھ گیا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی سے صورت حال پر فوری جواب طلب کیا ہے، جبکہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ہندوستانی فوج کو اروناچل کے کئی علاقوں میں گشت سے روکے جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے مودی حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھایا ہے۔

راہل گاندھی نے جمعہ کو ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ اروناچل پردیش میں کئی مقامات پر چین نے ہندوستانی فوج کو گشت کرنے سے روک دیا ہے اور یہ انتہائی تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے اختیار کی گئی ’خاموشی‘ ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت چین کو روکنے کے بجائے اس خبر کو روکنے کے لیے میڈیا پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’آپریشن‘ جاری ہے اور میڈیا کے ایڈیٹروں کو فون کر کے اس معاملے کو اخبارات میں شائع نہ کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ کانگریس کے سابق صدر نے اپنی گزشتہ روز ’رچناتمک کانگریس‘ کے قومی کنونشن سے اپنے خطاب کی ایک ویڈیو کلپ بھی ایکس پر شیئر کی۔ اس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ چین نے ہندوستانی فوج سے کہا کہ یہ زمین آپ کی ہے، لیکن آپ یہاں گشت نہیں کر سکتے۔

راہل گاندھی نے 2020 کی وادی گلوان کی جھڑپ کے بعد وزیر اعظم مودی کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں کہا گیا تھا کہ چین نے ہندوستان کی ایک انچ زمین بھی نہیں لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بیان کے بعد ہندوستانی فوج کے موقف اور چینی مذاکرات کاروں کے ساتھ بات چیت میں تضاد پیدا ہوا اور اس کا اثر ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر پڑا۔


انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کی سلامتی سے زیادہ وزیر اعظم کی سیاسی شبیہ کو ترجیح دے رہی ہے اور کہا کہ ایسا رویہ ملک کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔

دوسری جانب ملکارجن کھڑگے نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں اروناچل پردیش میں چین کی پیش قدمی سے متعلق ’تشویش ناک اطلاعات‘ کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے کئی سوالات پوچھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) نے تکسنگ کے قریب اپنی موجودگی بڑھائی ہے اور کیا ہندوستانی فوج کی مقررہ پیٹرولنگ پوائنٹ ’شیرا-5‘ تک باقاعدہ رسائی متاثر ہوئی ہے؟

ملکارجن کھڑگے نے یہ بھی پوچھا کہ حساس علاقے میں موسم سرما کے دوران ہندوستانی گشت محدود کیوں رہتا ہے، جبکہ پی ایل اے سال بھر وہاں موجود رہتی ہے۔ انہوں نے مقامی لوگوں کے روایتی چرائی اور شکار کے علاقوں تک رسائی محدود ہونے کی اطلاعات پر بھی حکومت سے وضاحت مانگی۔

کانگریس صدر نے مشرقی لداخ میں مئی 2020 سے پہلے کی صورت حال مکمل طور پر بحال ہونے پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے اور واضح کرے کہ ہندوستان کو ان تمام علاقوں اور پیٹرولنگ پوائنٹس تک رسائی حاصل ہے یا نہیں جہاں مئی 2020 سے پہلے ہندوستانی فوج باقاعدگی سے گشت کرتی تھی۔


کھڑگے نے وادی گلوانمیں 2020 کی جھڑپ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی پر چین کو ’کلین چٹ‘ دینے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا سابقہ ریکارڈ اس معاملے پر اعتماد پیدا نہیں کرتا۔ انہوں نے وزیر اعظم، وزیر دفاع اور وزیر داخلہ سے ملک کے سامنے جواب دینے کا مطالبہ کیا۔

ہندوستانی فوج نے اروناچل کے تکسنگ علاقے میں چینی کیمپوں یا حالیہ پیش قدمی سے متعلق بعض رپورٹس کو ’غلط اور بے بنیاد‘ قرار دیا ہے، جبکہ اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو نے بھی کہا ہے کہ فوج ریاست کی سرحد کی حفاظت اور گشت کر رہی ہے۔

وزارت خارجہ نے بھی چین کے ساتھ سرحدی معاملے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر امن اور استحکام برقرار رکھنا دونوں ممالک کے تعلقات کی آئندہ سمت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ وزارت نے واضح کیا ہے کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصہ ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔