ملکارجن کھڑگے کا مودی-شاہ پر حملہ، کہا- ’ملک کو برباد کر کے چھوڑیں گے، اگلی نسل کے لیے کچھ نہیں چھوڑیں گے‘

رچناتمک کانگریس کنونشن سے کھڑگے نے مودی اور شاہ پر ملک کو برباد کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طلبہ اور دیگر مسائل پر پارلیمنٹ میں بحث کے لیے تیار نہیں، یہی کانگریس اور بی جے پی میں فرق ہے

<div class="paragraphs"><p>ملکارجن کھڑگے / آئی این سی</p></div>
i

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے جمعرات کو رچناتمک کانگریس کے قومی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں رہنما ملک کو برباد کرکے چھوڑ دیں گے اور آئندہ نسل کے لیے کچھ نہیں چھوڑیں گے۔ کھڑگے نے حکومت پر پارلیمنٹ میں طلبہ سے متعلق مسائل سمیت عوامی اہمیت کے دیگر معاملات پر بحث اور جواب دینے سے گریز کا بھی الزام عائد کیا۔

کھڑگے نے کہا کہ آزادی کے بعد ملک کی تعمیر میں کانگریس اور اس کے رہنماؤں کا اہم کردار رہا ہے، جبکہ بی جے پی اور آر ایس ایس پر انہوں نے مذہب کے نام پر لوگوں کو تقسیم کرنے کا الزام لگایا۔

کانگریس صدر نے 23 اپریل 1958 کو دہلی میں پیش آنے والے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت دو بچوں کی حادثے میں موت ہوئی تھی۔ ان کے مطابق اس وقت حکومت نے واقعے کا نوٹس لیا اور اس وقت اپوزیشن میں موجود اٹل بہاری واجپئی نے پارلیمنٹ میں التوا کی تحریک پیش کی، جس پر ایوان میں بحث ہوئی اور حکومت نے جواب دیا۔


کھڑگے نے کہا کہ آج ہزاروں بچے مر رہے ہیں، گولیاں کھا رہے ہیں اور بچیوں کو سڑکوں پر گھسیٹا جا رہا ہے، لیکن مودی حکومت بحث کے لیے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی کانگریس اور بی جے پی کے درمیان فرق ہے۔

کانگریس صدر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ مانسون اجلاس کے دوران تقریباً 20 دن تک پارلیمنٹ میں نہیں آئے، جبکہ باہر یہ کہتے رہے کہ وہ بحث کے لیے تیار ہیں۔ شاہ کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کھڑگے نے سوال کیا کہ کیا انہیں پارلیمنٹ میں اپنے کمرے میں بیٹھنے کے لیے وزیر داخلہ بنایا گیا ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ نریندر مودی اور امت شاہ ملک کو برباد کر کے چھوڑ دیں گے اور آئندہ نسل کے لیے کچھ نہیں چھوڑیں گے۔

انہوں نے ملک کی آزادی اور تعمیر میں سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے کردار کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وزیر اعظم مودی نہرو کے بارے میں بات نہیں کرتے۔ انہوں نے بی جے پی کے ان رہنماؤں کو بھی نشانہ بنایا جو نہرو پر تنقید کرتے ہیں۔ کھڑگے نے کہا کہ جو لوگ نہرو کے دور میں پیدا بھی نہیں ہوئے تھے، انہیں اپنے والدین سے نہرو کے بارے میں پوچھنا چاہیے۔

آر ایس ایس پر حملہ کرتے ہوئے کانگریس صدر نے الزام لگایا کہ اس کے لوگ ملک کو ہمیشہ غلامی میں رکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو یہ جاننا چاہیے کہ ملک کی تعمیر کس نے کی اور اسے برباد کون کر رہا ہے۔ کھڑگے نے ٹیلی ویژن پر مختلف مصنوعات کے اشتہارات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے اچھے کاموں، آزادی کے ہیروز اور ان کے خیالات کی بھی تشہیر ہونی چاہیے، تاکہ ملک کے محب وطن نوجوان تیار ہوں۔


انہوں نے کہا کہ صرف ’مودی بھکت‘ ہونے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ کھڑگے نے آر ایس ایس اور بی جے پی پر مذہب کے نام پر لوگوں کو تقسیم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ انہوں نے کانگریس کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ ملک کی تعمیر میں کانگریس کے کردار کو لوگوں تک پہنچائیں اور پارٹی کے نظریات کو مضبوط کریں۔

رچناتمک کانگریس کا یہ دو روزہ قومی کنونشن 12 اور 13 اگست کو نئی دہلی میں منعقد ہوا، جس میں پہلے دن تنظیم، عوام سے رابطے اور آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ دوسرے دن کانگریس صدر کھڑگے اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے شرکا سے خطاب کیا۔ کنونشن کا اختتام قومی ترانے کے ساتھ ہوا۔