قومی

ایودھیا معاملہ پر مودی حکومت کی حکمت عملی، عدالتی فیصلے کے بعد ’من مرضی حل نکالو‘: وزیر قانون

وزیر قانون روی شنکر پرساد نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر سپریم کورٹ ایودھیا معاملے کو لے کر تیزی کیوں نہيں دكھا رہا ہے، لیکن یہ بھی کہا کہ عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد ہی حکومت اس بارے میں کوئی قدم اٹھائے گی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

مودی حکومت میں وزیر قانون روی شنکر پرساد نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر سپریم کورٹ ایودھیا معاملے کو لے کر تیزی کیوں نہیں دکھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’سبريمالا، اڈلٹری معاملہ، کرناٹک میں حکومت بنانے کے معاملے پر یا پھر اربن ماؤنوازوں کے معاملے میں جلد سماعت ہو جاتی ہے، یہ اچھی بات ہے، لیکن ایودھیا معاملے کا بھی حل جلد نکلے‘‘۔

روی شنکر پرساد نے اگرچہ یہ بیان دیتے ہوئے صاف کر دیا تھا کہ وہ وزیر قانون کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک عام ہندوستانی شہری کی حیثیت سے ایسا بول رہے ہیں، لیکن روی شنکر پرساد کے بیان کو کیا ایک عام ہندوستانی شہری کا بیان مانا جائے گا؟۔

دراصل روی شنکر پرساد نے اپنے کو بچاتے ہوئے ایسا کہہ کر ایک تنازعہ سے بچنے کی کوشش کی ہے، اگر وہ ایسا نہیں کہتے تو یقیناً یہ حکومت اور عدالت کے درمیان اختلافات کا معاملہ بنتا، وہ بھی ایسے وقت میں جب ملک میں انتخابات کا جلد اعلان ہونے والا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ملک کے عوام کی ایک بڑی تعداد کو توقع ہے کہ ایودھیا میں ایک خوبصورت رام مندر بنے، وزیر اعظم نریندر مودی، بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ بول چکے ہیں کہ اس معاملے کا تصفیہ آئینی طریقے سے ہونا چاہیے۔ روی شنکر پرساد نے کہا، ’’رام جنم بھومی کا معاملہ 70 سال سے زیر التوا ہے، الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی معاملہ کئی سالوں سے پینڈنگ میں ہے، 70 سال ہوچکے ہیں اس کیس کو چلتے ہوئے، اب اس معاملے کا جلد تصفیہ ہونا چاہیے‘‘۔

دراصل سپریم کورٹ میں ایودھیا معاملے پر 29 جنوری سے سنوائی شروع ہونی تھی، لیکن فی الحال یہ سماعت ٹل گئی ہے، جمعہ کو ہی چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے ایودھیا معاملے کی سماعت کے لئے 5 رکنی نئی آئینی بنچ تشکیل دی تھی، لیکن، سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار لسٹنگ کی طرف سے اتوار کو جاری نوٹس میں بتایا گیا کہ آئینی بنچ میں شامل جسٹس ایس اے بوبڈے 29 جنوری کو موجود نہیں رہیں گے، اس کی وجہ سے کیس کی سماعت نہیں ہوگی۔

ویسے اس معاملے کی سماعت کے لئے پہلے جسٹس یو یو للت کو آئینی بنچ میں شامل کیا گیا تھا، لیکن انہوں نے خود کو اس سماعت سے الگ کر لیا تھا، اس کے بعد نئی بنچ تشکیل دی گئی جس کو 29 جنوری سے سنوائی کرنی تھی، لیکن اب یہ بھی ٹل گئی ہے اور نئی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ایودھیا معاملے کو لے کر سپریم کورٹ میں جو بھی سماعت ہوئی، وہ چند منٹوں میں ہی ختم کر دی گئی تھیں۔

لیکن وزیر قانون کا (بھلے عام شہری کی حیثیت سے دیا گیا) بیان اس معنی میں اہم ہے کہ تین دن بعد ہی کمبھ میں وشو ہندو پریشد کی طرف سے ’دھرم سنسد‘ ہونے والی ہے، جس کا ایجنڈا بنیادی طور پر ایودھیا میں رام مندر تعمیر کا راستہ صاف کرنے کے لئے مودی حکومت پر دباؤ بنانا ہے۔ سادھو، سنت اور وشو ہندو پریشد رہنما مطالبہ کر رہے ہیں کہ مودی حکومت آرڈیننس لا کر ایودھیا کی متنازعہ زمین ہندوؤں کو سونپ دے اور عالیشان رام مندر کی تعمیر کا راستہ صاف کرے۔ عوامی طور پر تو سادھو، سنت اور وی ایچ پی اس معاملے پر مودی حکومت سے ناراضگی ظاہر کرتا رہا ہے، لیکن ابھی تک اس معاملے کو لے کر انہوں نے نہ تو مرکز کی مودی حکومت اور نہ ہی اتر پردیش کی یوگی حکومت سے ٹکراؤ کا راستہ اختیار کیا ہے۔

ایسے میں روی شنکر پرساد (جو کہ سابق میں 'رام للا براجمان' کے وکیل رہ چکے ہیں) کا سپریم کورٹ پر سوال اٹھانا شکوک پیدا کرتے ہیں، جب الہ آباد ہائی کورٹ میں ایودھیا کا مقدمہ تھا تو 'رام للا براجمان' کو بھی ایک پارٹی بنایا گیا تھا، 2010 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے ایودھیا کی متنازعہ زمین کو تین برابر حصوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا تھا، اس میں ایک حصہ مسلمانوں کو، ایک حصہ نرموہی اکھاڑے کو اور ایک حصہ 'رام للا براجمان' کو دینے کا فیصلہ سنایا گیا تھا۔ اسی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا، اس کے بعد سے یہ معاملہ عدالت عظمیٰ میں زیر غور ہے۔

روی شنکر پرساد کا بیان حیرت میں نہیں ڈالتا ہے، کیونکہ آر ایس ایس کا رخ بھی اس معاملے پر ایسا ہی رہا ہے، سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت اور سنگھ کے دوسرے لیڈر بھياجی جوشی بھی یہی بات کہہ چکے ہیں کہ سپریم کورٹ کے پاس ایودھیا معاملے کو سننے کا وقت نہیں ہے، موہن بھاگوت نے تو یہاں تک کہا تھا کہ انصاف میں تاخیر کا مطلب ناانصافی ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ وزیر اعظم نریندر مودی نے نئے سال پر دیئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’تین طلاق معاملے پر آرڈیننس سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد لایا گیا تھا‘‘۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’بی جے پی نے 2014 کے اپنے منشور میں کہا تھا کہ ہم اس مسئلے کا آئینی حل لائیں گے، اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ گزشتہ 70 سالوں سے یہ معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے‘‘۔ انہوں نے کانگریس پر رام مندر تعمیر کی راہ میں روڑے اٹكانے کا الزام بھی لگایا تھا، مودی نے کہا تھا کہ ’’اب معاملہ آخری مرحلے میں ہے، ایک بار عدالتی عمل مکمل ہو جائے، اس کے بعد حکومت کے طور پر ہماری جو ذمہ داری ہوگی ہم اس کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے‘‘۔

لہذا روی شنکر پرساد نے جو کچھ کہا ہے اسے مودی کہی بات کی ہی تکرار مانی جانی چاہیے۔