حکومت اب ہر کمپیوٹر کی کرے گی جاسوسی، پرائیوسی قانون کا بج گیا بینڈ

کیا مودی حکومت ہر گھر میں جاسوسی کرنے کی تیاری کر رہی ہے؟ آخر کیوں حکومت نے ملک کی دس ایجنسیوں کو ہر کسی کے کمپیوٹر میں جھانکنے، اس کا ڈاٹا نکالنے اور دیگر جانکاریاح حاصل کرنے کا اختیار دے دیا ہے؟

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

اتم سین گپتا

مودی حکومت کی وزارت داخلہ نے جمعرات کو ایک حکم جاری کیا ہے۔ داخلہ سکریٹری رجوی گوبا کے دستخط سے جاری اس حکم میں سبھی خفیہ ایجنسیوں، ریاستوں کی پولس وغیرہ کو اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی کمپیوٹر کی نگرانی کر سکتی ہیں، کسی بھی فون کو ٹیپ کر سکتی ہیں۔ ویسے بھی گزشتہ کئی سالوں سے ایجنسیاں منمانے طریقے سے الیکٹرانک جاسوسی کرتی رہی ہیں۔

اسی سال جنوری میں جب اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے گھر کے باہر لکھنؤ میں کچھ لوگوں نے آلو سڑک پر پھینک دیے تھے تو یو پی پولس نے باضابطہ اعتراف کیا تھا کہ اس نے کم از کم 10 ہزار ٹیلی فون پر نظر رکھی تھی اور آخر کار دو قصورواروں کو پکڑا تھا۔ ان دونوں لوگوں پر وزیر اعلیٰ کو بدنام کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

وزارت داخلہ کے اس حکم میں 10 ایجنسیوں کی فہرست دی گئی ہے جنھیں کمپیوٹر کی نگرانی کرنے، اس میں جھانکنے، اس میں اسٹور ڈاٹا، اطلاعات اور دستاویز وغیرہ کو حاصل کرنے، فون یا دیگر کمپیوٹر ذرائع میں جمع کوئی بھی جانکاری حاصل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ جن ایجنسیوں کو یہ اختیار دیا گیا ہے ان میں انٹیلی جنس بیورو (محکمہ خفیہ)، نارکوٹکس کنٹرول بیورو، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ، سنٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسز (سی بی ڈی ٹی)، ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلی جنس (ڈی آر آئی)، سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی)، نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کابینہ سکریٹریٹ یعنی (را) اور ڈائریکٹوریٹ آف سگنل انٹلی جنس کمشنر آف پولس کے علاوہ دہلی پولس وغیرہ شامل ہیں۔ اس فہرست کو دیکھیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ ہندوستان اب ایک پولس اسٹیٹ یعنی ایسا ملک بن گیا ہے جہاں تاناشاہی کا راج ہے اور جو پولس اور دیگر ایجنسیوں کے ذریعہ عام شہریوں کی جاسوسی کراتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ آئندہ سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات سے عین قبل ایسا حکم، وہ بھی جلدبازی میں جاری کرنے کی حکومت کو کیا ضرورت تھی؟ اس حکم کے جاری ہونے کے وقت کو لے کر ہی سب سے بڑا سوال ہے۔ شمال مشرق اور جموں و کشمیر کو چھوڑ دیں تو موٹے طور پر پورے ملک میں امن قائم ہے۔ ہاں کبھی کبھی فرقہ وارانہ تصادم اور کسانوں کی تحریکوں کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ تو پھر آخر ایسا کیا ہوا کہ مودی حکومت نے تقریباً ہر ایجنسی کو اتنا اہم اختیار دے دیا؟

اس کے تین اسباب ہو سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ حکومت کو ایسی خفیہ رپورٹ ملی ہو کہ ملک میں بڑے پیمانے پر کوئی گڑبڑی پھیلانے کی سازش کی جا رہی ہے اور حکومت نے اسے روکنے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حکومت اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف دھر پکڑ یا کریک ڈاؤن کی تیاری کر رہی ہے۔ یا پھر حکومت کو ایسا لگنے لگا ہے کہ ایجنسیوں کے ذریعہ پہلے سے کی جا رہی نگرانی اور جاسوسی ناکافی ہے اور اسے اور بڑھانے کی ضرورت ہے۔

بہر حال نگرانی اور جاسوسی کو رسمی جامہ پہنانے کے پیچھے منشا یہ بھی ہو سکتی ہے کہ حکومت نے سابق میں جو بھی آپریشن کیا ہے انھیں قانونی دائرے میں لے آیا جائے اور ایجنسیوں کے لیے ایک سیکورٹی سطح بھی بن جائے۔ ایسا غالباً اس لیے بھی کیا گیا ہے کہ حکومت بدلنے پر ایجنسیوں کو خود کو بچانے میں مدد ملے۔

یہاں یہ بھی اہم ہے کہ ریاستوں اور مرکز دونوں کے سکریٹریوں کو ایسے حکم دینے کا حق ہے کہ وہ خاص معاملوں میں یا جن میں ضرورت سمجھی جائے، اس میں نگرانی، جاسوسی یا ڈاٹا وغیرہ نکالنے کی اجازت دے دیں۔ لیکن 20 دسمبر کو جاری وزارت داخلہ کے اس حکم کے بعد تو ریاستی حکومتوں کے بھی حوصلے بڑھیں گے اور وہ اپنی ریاستوں کی پولس کو بھی ایسے اختیار دے سکتی ہیں۔ تو کیا پولس ریاست کی برسراقتدار پارٹی کے سیاسی مخالفین کے خلاف اختیارات کا غلط استعمال نہیں کرے گی؟

اس حکم کے بعد سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا کیا ہوگا جس میں پرائیویسی قانون کو شہریوں کا بنیادی حق قرار دیا گیا تھا؟ حکومت کے اس حکم سے متعلق رد عمل بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن نے جمعہ کو ہی اس حکم سے متعلق اندیشہ ظاہر کیا اور حکومت سے اپنے فیصلے پر پھر سے غور کرنے کی اپیل کی۔ فاؤنڈیشن نے کہا کہ بہتر ہوتا کہ حکومت اس بارے میں عام لوگوں سے بات کرتی اور شفاف طریقے سے نگرانی اصلاح اور ڈاٹا سیکورٹی پر فیصلہ کرتی۔ فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ اگر حکومت اس اپیل پر دھیان نہیں دیتی ہے تو وہ عدالت کا رخ کرے گی۔ فاؤنڈیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ ’’وزارت داخلہ کا حکم ٹیلی فون ٹیپنگ سے کہیں آگے جاتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس حکم میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ کہیں زیادہ پرائیویسی قانون کی خلاف ورزی ہے۔‘‘

دراصل مودی حکومت کا مسئلہ ہی یہ رہا ہے کہ اس کے کام کے طور طریقے بے حد اٹپٹے ہیں۔ یہ حکومت بغیر کسی صلاح و مشورے کے فیصلے لیتی ہے۔ ابھی حال ہی میں حکومت نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ آر ٹی آئی ایکٹ میں تبدیلی کرنے سے قبل سنٹرل انفارمیشن کمیشن سے صلاح و مشورہ کرنا ضروری نہیں ہے۔ ماحول ایسا بن چکا ہے کہ اب تو بس عدلیہ پر ہی بھروسہ ہے۔ وہی ملک کو ایک پولس اسٹیٹ بننے سے بچا سکتی ہے۔

Published: 21 Dec 2018, 3:09 PM