ایک اور کمپنی بکنے کو تیار، مودی حکومت ایئر انڈیا کے 100 فی صد حصص کرے گی فروخت

اس سے پہلے بھی شہری ہوابازی کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری ایئر انڈیا کے نجکاری کی بات کہہ چکے تھے، انہوں نے کہا تھا کہ ایئر انڈیا کا قرض بڑھتا جا رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مرکز کی مودی سركرار نے ایئر انڈیا میں اپنے 100 فیصد حصہ کو فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے، جو کمپنیاں اس کے شیئر خریدنا چاہتی ہیں انہیں 17 مارچ تک اپنے دستاویزات جمع کرنے ہوں گے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری دستاویزات کے مطابق’اسٹریٹجک سرمایہ کاری‘ کے تحت ایئر انڈیا، ایئر انڈیا ایکسپریس کے بھی 100 فیصد اور AISATS کے 50 فیصد حصہ فروخت کرے گی، اس کے ساتھ ہی انتظامی کنٹرول کا حق بھی کامیاب بولی لگانے والے کے حصے میں چلا جائے گا، حکومت اس سرمایہ کاری میں بولی عمل کا استعمال کرے گی۔

حال ہی میں ایئر انڈیا کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر (سی ایم ڈی) اشونی لوهانی کا اس سلسلے میں بیان آیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ کمپنی کے بند ہونے کو لے کر افواہیں مکمل طور بے بنیاد ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سرکاری ایوی ایشن کمپنی ایئر انڈیا اپنی پروازیں جاری رکھے گی اور آپریشنوں میں توسیع بھی کرے گی، مودی حکومت نے ایئر انڈیا میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سے پہلے ایکسپریشن آف انٹریسٹ کے ڈرافٹ کو جی او ایم کی میٹنگ میں منظوری دی گئی تھی، اس مہینے کے آخر تک اسے جاری کرنے کی بات بھی سامنے آئی تھی، اجلاس میں شہری ہوا بازی کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے کہا تھا کہ جلد ہی اس پر بیان جاری کیا جائے گا، اس سے پہلے بھی شہری ہوابازی کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری ایئر انڈیا کے نجکاری کی بات کہہ چکے تھے، انہوں نے کہا تھا کہ ایئر انڈیا کا چونکہ قرض بڑھتا ہی جا رہا ہے، ایسے میں اسے آگے جاری نہیں رکھا جا سکتا ہے۔