مودی حکومت کل ’ایف سی آر اے بل‘ پاس کرانے کی تیاری میں، لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے: کانگریس

کانگریس نے اعلان کیا ہے کہ وہ بدھ کی صبح پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں اس بل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرے گی۔ پارٹی لیڈران کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلہ کو عوامی سطح پر بھی اٹھائیں گے تاکہ حکومت پر دباؤ بنے۔

<div class="paragraphs"><p>کے سی وینوگوپال</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ مرکز کی مودی حکومت بدھ کے روز لوک سبھا میں ’غیر ملکی عطیات (ضابطہ) ترمیمی بل 2026‘ یعنی ’ایف سی آر اے بل‘ کو پاس کرانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ساتھ ہی کانگریس نے عزم ظاہر کیا کہ اپوزیشن اس بل کی سخت مخالفت کرے گی اور اسے منظور نہیں ہونے دے گی۔ کانگریس کے مطابق یہ بل غیر آئینی ہے اور اس سے غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز)، خاص طور پر اقلیتی برادریوں کے ذریعہ چلائے جانے والے اداروں کو شدید نقصان پہنچے گا۔

کانگریس کے تنظیمی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس سلسلے میں جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ کانگریس نے اپنے تمام اراکین پارلیمنٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ دہلی پہنچیں اور بدھ کے روز ایوان زیریں میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی اس بل کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھائے گی اور ہر ممکن پارلیمانی طریقے سے اس کی مخالفت کرے گی۔


وینوگوپال کا کہنا ہے کہ کانگریس اس بل کو جمہوری اقدار اور آئینی اصولوں کے خلاف سمجھتی ہے۔ ان کے مطابق اس قانون کے ذریعہ حکومت این جی اوز کی سرگرمیوں پر غیر ضروری پابندیاں عائد کرنا چاہتی ہے، جس سے سماجی خدمات انجام دینے والے ادارے متاثر ہوں گے، خصوصاً وہ تنظیمیں جو اقلیتی طبقات کے لیے کام کر رہی ہیں۔

کانگریس نے اعلان کیا ہے کہ وہ بدھ کی صبح پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں اس بل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کرے گی۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلہ کو عوامی سطح پر بھی اٹھائیں گے تاکہ حکومت پر دباؤ بنایا جا سکے اور اس متنازعہ بل کو واپس لینے پر مجبور کیا جا سکے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس معاملہ پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ٹکراؤ کے آثار نمایاں ہو چکے ہیں، جس کے باعث پارلیمنٹ کی کارروائی متاثر ہونے کا بھی امکان ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس بل کو منظور کرانے میں کامیاب ہوتی ہے یا اپوزیشن کی مزاحمت اسے روکنے میں کامیاب رہتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔