سرکاری کمپنیوں کی شراکت داری کو لے ڈوبے گی مودی حکومت

مرکز کی مودی حکومت پبلک سیکٹر کمپنیوں کو اپنی شراکت داری فروخت کرنے کی کوشش میں ہے۔ آئندہ یکم فروری کو پیش ہونے والے بجٹ میں 80 ہزار کروڑ روپے حاصل کرنے کے مقصد سے یہ قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ان دنوں مودی حکومت آئندہ یکم فروری کو اپنی مدت کار کا آخری عام بجٹ پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اسی سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے مدنظر اس بجٹ میں عوام کو خوش کرنے والے کئی اعلانات ہونے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ لیکن ایک خبر رساں ادارہ نے بجٹ سے متعلق ایک حیران کرنے والا انکشاف کیا ہے۔ نیوز ایجنسی رائٹرس کے مطابق مودی حکومت آئندہ بجٹ میں پبلک سیکٹر کی کمپنیوں میں اپنی شراکت داری فروخت کرنے کے منصوبہ پر غور کر رہی ہے۔

اتنا ہی نہیں، اس کے علاوہ حکومت اپنی ملکیت والی ایسی دوسری کمپنیوں کے شیئر بھی کھلے بازار میں فروخت کرنے کی تیاری میں ہے۔ خبروں کے مطابق مودی حکومت نے نئے مالی سال یعنی 20-2019 میں پبلک سیکٹر کی کمپنیوں میں اپنی شراکت داری فروخت کر 11.21 بلین ڈالر (تقریباً 80 ہزار کروڑ روپے) حاصل کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ اس کے لے حکومت بجٹ میں انتظام کا اعلان کر سکتی ہے۔

رپورٹ میں بجٹ سے جڑے مودی حکومت کے دو سینئر افسران کے حوالے سے یہ جانکاری دی گئی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ موجودہ مالی سال میں بھی پبلک سیکٹر کی کمپنیوں میں اپنی شراکت داری فروخت کرکے 80 ہزار کروڑ روپے حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق بجٹ میں پبلک سیکٹر کی کمپنیوں میں شراکت داری فروخت کر پیسے جمع کرنے کی بات کا تذکرہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی خسارہ میں چل رہی پبلک سیکٹر کی کمپنی ائیر انڈیا کی نجکاری بھی کی جا سکتی ہے۔

علاوہ ازیں رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نیشنل انشورنس، اورینٹل انشورنس اور یونائٹیڈ انشورنس تین سرکاری سیکٹر کی بیمہ کمپنیوں کا انضمام کر ایک مشترکہ بیمہ کمپنی تشکیل کرنے کا بھی اعلان کر سکتی ہے۔ اس کے ذرائع کے مطابق سرکاری سیکٹر کی تین بیمہ کمپنیوں کو ایک فرم میں تبدیل کر اسے فروخت کرنے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت انڈین ریل کی یونٹ آئی آر سی ٹی سی، ریل ٹیل کارپوریشن انڈیا، ٹیلی کمیونکیشن کنسلٹنٹس اور نیشنل سیڈس کارپوریشن میں آئی پی او کے ذریعہ سے اپنی شراکت داری فروخت کر سکتی ہے۔

خبروں کے مطابق ارون جیٹلی کی جگہ اب پیوش گویل یکم فروری کو بجٹ پیش کریں گے۔ جیٹلی اپنی بیماری کے علاج کے لیے اس وقت امریکہ میں ہیں۔ موجودہ مالی سال کی بات کریں تو اس کے لیے پبلک سیکٹر کی کمپنیوں میں شراکت داری فروخت کر کے فنڈ اکٹھا کرنے کا جو ہدف رکھا گیا تھا، حکومت اسے حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق موجودہ مالی سال میں بھی اس ذریعہ سے 80 ہزار کروڑ روپے کا ہدف رکھا گیا تھا، لیکن ابھی تک 35 ہزار کروڑ روپے ہی حاصل ہو سکا ہے، جو کہ ہدف کا 43 فیصد ہی ہے۔ موجودہ مالی سال 31 مارچ کو ختم ہو رہا ہے۔

حالانکہ یہ بات طے ہے کہ یکم فروری کو پیش ہونے والے بجٹ میں جو بھی ہدف مودی حکومت رکھے، اسے حاصل کرنے کا طور طریقہ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں اس حکومت کی واپسی پر منحصر کرے گا۔ بجٹ سے جڑے افسران کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اگر مودی حکومت کی اکثریت سے پھر واپسی ہوتی ہے تو سرکاری کمپنیوں کی نجکاری کی رفتار میں تیزی آ سکتی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو مجوزہ ہدف اور اس کو حاصل کرنے کے طور طریقوں میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ بتا دیں کہ بجٹ کے ایک ماہ بعد ہی یعنی مارچ میں عام انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہونے کا پورا امکان ہے۔