مودی حکومت ’ایمس‘ میں علاج اور تَعلیم مہنگی کرنے پر آمادہ! طلبا کا احتجاج شروع

مودی حکومت 90 فیصد تک فیس بڑھانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ ایمس اسٹوڈنٹس ایسو سی ایشن کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کے فیصلے لیے گئے تو پورے ملک کے ایمس اسٹوڈنٹس سڑکوں پر اتر کر احتجاج کریں گے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

جے این یو میں طلبا کی فیس بڑھانے کا معاملہ ابھی ختم بھی نہیں ہوا ہے اور مودی حکومت کے ذریعہ ’ایمس‘ طلبا کی فیس بڑھائے جانے کی تیاریوں سے متعلق خبریں عام ہو گئی ہیں۔ اس خبر سے ایمس کے طلبا حیران ہیں اور انھوں نے احتجاج بھی شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت صرف طلبا کی فیس ہی بڑھانے کی تیاری نہیں کر رہی ہے بلکہ ایمس میں علاج بھی مہنگا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی وزارت صحت نے سبھی ریاستوں میں موجود ایمس انتظامیہ سے موجودہ فیس اسٹرکچر اور ٹریٹمنٹ یعنی علاج فیس کی جانکاری طلب کی ہے۔ فیس بڑھنے کی آہٹ سنتے ہی طلبا نے آواز اٹھانی شروع کر دی ہے۔ ایمس اسٹوڈنٹ ایسو سی ایشن (بھوپال) نے وزیر اعظم، مرکزی وزیر صحت سمیت وزارت صحت کے اعلیٰ افسران سے فیس نہ بڑھانے کی اپیل کی ہے۔

ایمس میں فیس بڑھائے جانے کی کارروائی شروع ہونے کی خبر ملنے کے بعد طلبا متحد ہونے شروع ہو گئے ہیں۔ مرکزی وزارت صحت نے مریضوں کے علاج اور طلبا کی فیس بڑھانے کا ابھی صرف مسودہ تیار کیا ہے اور ملک بھر میں واقع ایمس انتظامیہ سے فیس کا موجودہ چارٹ منگوایا گیا ہے۔ اس کی خبر جیسے ہی بھوپال ایمس اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کو ملی، انھوں نے احتجاج کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایسو سی ایشن کے صدر اے. شری ندھی نے کہا کہ ’’ایمس ہندوستان ہی نہیں دنیا کے کئی ممالک میں علاج کے معاملے میں قابل اعتماد ادارہ ہے۔ علاج کا خرچ بڑھانے سے مریضوں کے لیے مشکلات کھڑی ہو جائیں گی۔ علاج اور پڑھائی کی فیس بڑھانے سے پہلے حکومت کو پھر سے غور کرنا چاہیے۔‘‘

ایمس اسٹوڈنٹس ایسو سی ایشن (بھوپال) کے جنرل سکریٹری ستیم مشرا کا کہنا ہے کہ مشکل حالات میں پڑھائی کر اپنی قابلیت کے دم پر ایمس میں داخلہ لینے والے طلبا کی فیس بڑھانے سے ان کے گھر والوں پر معاشی بوجھ بڑھ جائے گا۔ ایمس میں قابل ڈاکٹر تیار ہوتے ہیں، اس لیے ان پر خرچ کا بوجھ نہیں ڈالا جانا چاہیے۔

بہر حال، جو اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اس کے مطابق مودی حکومت 90 فیصد تک فیس بڑھانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ ایمس اسٹوڈنٹس ایسو سی ایشن (بھوپال) نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اس طرح کے فیصلے لیے گئے اور اس کا نفاذ ہوا تو پورے ملک کے ایمس اسٹوڈنٹس سڑکوں پر اتر کر فیصلے کی مخالفت کریں گے۔

Published: 28 Nov 2019, 8:11 PM