مودی حکومت میں ریلوے کی قیمتی زمینوں کو ’کوڑیوں‘ میں فروخت کرنے کا خاکہ تیار!

ریلوے کی زیادہ تر زمین چھوٹے بڑے شہروں کے بیچوں بیچ ہے۔ پارلیمنٹ کی پی اے سی کمیٹی رپورٹ کے مطابق ریلوے کے پاس 4 لاکھ 58 ہزار 588 ہیکٹیر زمین ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

انل کمار چوہان

مرکز کی مودی حکومت نے ریلوے اور اس کی ملکیتوں کو پرائیویٹ ہاتھوں میں دینے کا خاکہ تیار کر لیا ہے۔ حکومت کی نظریں ریلوے کی زمین پر ہے۔ ملک بھر میں پھیلی مختلف وزارتوں اور عوامی مشنریوں کی قیمتی زمین پر مرکزی حکومت کی نظریں پہلے سے لگی ہوئی تھیں، لیکن پہلی بار حکومت نے پارلیمنٹ میں باضابطہ اعلان کرتے ہوئے اس زمین کا پرائیویٹ سیکٹر کی مدد سے تجارتی استعمال کی بات کہی گئی ہے۔ وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے بجٹ تقریر میں واضح کر دیا کہ سرکاری زمین کے ڈیولپمنٹ کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کا تعاون لیا جائے گا۔ ملک میں سب سے زیادہ زمین فوج اور ریلوے کے پاس ہے۔ اس کے علاوہ ائیر انڈیا، ائیر پورٹ اتھارٹی آف انڈیا اور دیگر عوامی مشنریوں کی بیش قیمتی زمینیں شہروں میں پڑی ہیں۔

ریلوے کی زیادہ تر زمین چھوٹے بڑے شہروں کے بیچوں بیچ ہے۔ پارلیمنٹ کی پی اے سی یعنی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی رپورٹ کے مطابق، ریلوے کے پاس 4 لاکھ 58 ہزار 588 ہیکٹیر زمین ہے۔ ان میں سے 46 ہزار 409 ہیکٹیر زمین خالی پڑی ہے، جب کہ 931 ہیکٹیر پر غیر قانونی قبضہ ہے۔ کابینہ کی اقتصادی امور کی کمیٹی نے جولائی 2015 میں زمین 40 سے 99 سال کی لیز پر دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ تب ہی مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے کہا تھا کہ ریلوے کی زمین کو زیادہ سے زیادہ 99 سال کی لیز پر دیا جا سکے گا۔ پی پی پی ماڈل میں اسٹیشنوں کی باز آبادکاری کے لے انڈین ریلوے اسٹیشن ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی تشکیل پہلے ہی کی جا چکی ہے۔ ریلوے زمین پر ہوٹل، ریسٹورینٹ، کمرشیل کمپلیکس، فوڈ پلازہ کی تعمیر کی جائے گی۔ اس کے علاوہ بلڈر ریلوے کی زمین پر کثیر منزلہ عمارتیں بنا کر فروخت کر سکیں گے۔

سہولیات کے نام پر مسافروں سے منمانی وصولی بھی شروع ہو چکی ہے۔ مثال کے طور پر نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر ویٹنگ ہال ٹیکس لینا شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ 10 سے لے کر 50 روپے فی گھنٹہ ہے۔ اس میں جنرل چیئر اور صوفے کے ریٹ الگ الگ ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ وقت کے بعد شرحیں بڑھتی جائیں گی۔

اگر گاڑی لیٹ ہے تو ہو سکتا ہے کہ ریل کرایہ سے زیادہ مسافر کو ویٹنگ ہال میں ٹھہرنے کا کرایہ دینا پڑ جائے۔ وہیں، پارکنگ کی شرحیں بھی پہلے سے کہیں زیادہ کر دی گئی ہیں۔ ویسے، یہ اسٹیشن حکومت کی باز آبادکاری منصوبہ میں ابھی شامل نہیں ہوا ہے۔

Published: 12 Jul 2019, 12:10 PM