مودی حکومت بی ایس این ایل اور ایم ٹی این ایل کو جلد بند کر سکتی ہے!

فنڈ کی کمی سے جوجھ رہی ملک کی دو بڑی ٹیلی مواصلات کی کمپنیوں کو وزارت خزانہ نے بند کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

قومی معیشت اقتصادی بحران سے دو چار ہے اور حکومت کے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ اس بحران سے کیسے نمٹے۔ ملک کی دو بڑی ٹیلی مواصلاتی کمپنیاں بی ایس این ایل اور ایم ٹی این ایل فنڈ کی کمی سے جوجھ رہی ہیں، وزارت خزانہ نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ ان کمپنیوں کوبند کر دیا جائے۔ اگر ان کمپنیوں کو بند کیا گیا تو لاکھوں ملازمین بے روزگار ہو سکتے ہیں۔ محکمہ ٹیلی مواصلات نے بی ایس این ایل اور ایم ٹی این ایل کو واپس پٹری پر لانے کے لئے 74 ہزار کروڑ روپے کا ایک منصوبہ دیا تھا جسے اب وزارت خزانہ نے ٹھکرا دیا ہے۔ وزارت خزانہ کے انکار کے بعد یہ طے مانا جا رہا ہے کہ یہ دونون کمپنیاں اب چند ماہ یا سال بھر ہی کی مہمان ہیں۔

واضح رہے بی ایس این ایل پر 14 ہزار کروڑ کی دینداری ہے اور مالی سال 2017-18 میں بی ایس این ایل کو 31,287 کروڑ کا نقصان ہوا تھا۔ کمپنی میں فی الحال 1.76 لاکھ ملازمین کام کرتے ہیں اور وی آر ایس دینے پر ملازمین کی تعداد پانچ سالوں میں 75 ہزار رہ جائے گی۔

فائننشل ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ٹیلی مواصلات کی وزار ت نے کہا ہے کہ ان دونوں سرکاری ٹیلی مواصلاتی کمپنیوں کو بند کرنے پر حکومت کو قریب 95 ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے پڑیں گے۔ پیکج میں ملازمین کی ریٹائر ہونے والی عمر کو 60 سے گھٹا کر 58 سال کرنے لئے کہا گیا تھا، اسی کے ساتھ 1.65لاکھ ملازمین کو دلکش وی آر ایس پیکج دینے کے لئے بھی کہا گیا تھا۔

وزارت خزانہ کے مطابق بی ایس این ایل اور ایم ٹی این ایل کو بند کرنے کا منصوبہ اس لئے بنایا گیا تھا کیونکہ ابھی ٹیلی کام انڈسٹری میں اقتصادی مندی کا دور آیا ہوا ہے اور ان حالات میں شائد ہی کوئی کمپنی سرکاری کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے پر غور کرے۔ ستمبر ماہ میں بھی وزیر اعظم کے دفتر میں اس تعلق سے میٹنگ ہوئی تھی اور میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاملہ میں جلد فیصلہ لینے کے لئے کہا گیا تھا۔ ساتھ ہی سکریٹریوں کی ایک کمیٹی تشکیل کرنے کے لئے بھی کہا گیا تھا۔ اس کمیٹی کو مشورہ دینا تھا کہ حکومت کو ان کمپنیون کے تعلق سے کیا فیصلہ لینا چاہیے۔

واضح رہے ایم ٹی این ایل میں 22 ہزار ملازمین ہیں اور کمپنی پر 19 ہزار کروڑ روپے کا قرضہ ہے۔ کمپنی کی 90 فی صدی آمدنی ملازمین کی تنخواہ دینے میں خرچ ہوتی ہے۔ اگلے چھ سالوں میں کمپنی کے 16 ہزار ملازمین ریٹائر ہو جائیں گے۔

Published: 10 Oct 2019, 1:41 PM