مودی تاریخ کے پہلے پی ایم جن کا تبصرہ پارلیمانی کارروائی سے ہٹانا پڑا

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین انتخاب کے بعد دونوں امیدواروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا تھا۔

بلاوقفہ لگاتار بولنے کے لئے مشہور وزیر اعظم مودی کے لئے آج کا دن اچھا نہیں رہا کیوں کہ ان کے ایک تبصرہ کو پارلیمانی کارروائی سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے جب کیس وزیر اعظم کے بیان کے کسی حصہ کو کارروائی سے ہٹایا گیا ہو۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین انتخاب کے بعد دونوں امیدواروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا تھا۔ این ڈی اے امیدوار ہری ونش سنگھ کی جیت کے بعد ان کے نام میں ہری کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا تھا، ’’سب کچھ ہری کے بھروسہ ہے۔ امید ہے کہ ہری کی کرپا ہم پر بنی رہے۔ دونوں فریقوں کے امیدواروں کے نام کے ساتھ ہیر جڑا ہے۔ یہ چناؤ تھا جہاں دونون طرف ہری تھے لیک ایک طرف بی کے تھے، ان کے آگے ہری تھا بی کے ہری... کوئی نہ بکے۔ ہری ونش کے سامنے کوئی بکے نہیں۔‘‘

دراصل اپوزیشن امیدوار کا نام بی کے ہری پرساد ہے اور وزیر اعظم کے بیان کا مفہوم یہ تھا کہ ان کے امیدوار کے سامنے کوئی فروخت نہیں ہوا۔ آر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ منوج جھا نے وزیر اعظم کے تبصرہ پر اعتراض ظاہر کیا تھا اور چیئر مین سے اسے کارروائی سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم کے تبصرہ کے خلاف پوائنٹ آف آرڈر ریز کیا تھا۔

جمعہ کو راجیہ سبھا کے سکریٹریٹ نے معلومات دی کے زیر اعظم کے ’اس حصہ کو‘ ہٹا دیا گیا ہے۔ منوج جھا کے مطابق یہ تبصرہ قابل اعتراض اور غلط منشا سے دیا گیا تھا۔ منوج جھا نے کہا کہ آزاد ہندوستان میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے ہے جب کسی وزیر اعظم کے تبصرے کو کارروائی سے ہٹانا پڑا ہو۔ انہوں نے اس فیصلہ پر خوشی ظاہر کی۔

سب سے زیادہ مقبول