علامتی پارلیمنٹ: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف عوامی مواخذے کی قرارداد منظور، 6 سنگین الزامات عائد

اپوزیشن نے الزام عائد کیا کہ حکمراں طبقہ کے تئیں فرمانبرداری کے بدلے گیانیش کمار کے خاندان کے کئی افراد کو فوائد اور دیگر سہولتیں حاصل ہوئی ہیں، جن میں باوقار اور منافع بخش عہدوں پر تقرریاں شامل ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی پارلیمنٹ کا منظر، تصویر کانگریس میڈیا سیل</p></div>
i

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف عوامی مواخذے کی کارروائی کے لیے اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد ’انڈیا‘ نے آج ’علامتی پارلیمنٹ‘ منعقد کیا، جس میں بالکل حقیقی پارلیمانی اجلاس کی طرح قرارداد کو بحث کے لیے منظور کیا گیا اور پھر بحث کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس علامتی پارلیمنٹ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف 6 سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

’علامتی پارلیمنٹ‘ میں پیش کردہ قرارداد میں اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے کہا گیا کہ ’’31 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی میں جمع ہونے والے انڈیا اتحاد کے اراکین پارلیمنٹ، جو ہندوستان کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں، اور شہریوں نے ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 326 میں درج حق رائے دہی بالغاں کے تئیں اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اور اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے اقدامات سے اس حق کو انتہائی سنگین خطرہ لاحق ہے، یہ قرارداد منظور کی ہے کہ ان کے خلاف درج ذیل الزامات کی بنیاد پر مواخذے کی کارروائی چلائی جائے۔‘‘ اس کے بعد جو 6 الزامات عائد کیے گئے ہیں، وہ ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں۔


الزام نمبر 1: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے بی جے پی کی جانب سے لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں ووٹ چوری کرنے کے لیے رچی گئی بدنیتی پر مبنی مجرمانہ سازش کی نگرانی کی اور خود بھی اس میں شامل رہے۔ انہوں نے بی جے پی کو ووٹر لسٹس تک رسائی فراہم کر کے، اپنی مرضی سے ووٹروں کے نام شامل کرنے اور حذف کرنے، نیز انتخابی نتائج میں رد و بدل کی اجازت دے کر قصداً قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی کی ہے۔ وہ ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد، ہمارے انتخابی عمل پر پہلے سے طے شدہ حملے کو انجام دینے کے قصوروار ہیں۔ یہ ایک مجرمانہ فعل اور ملک و ہندوستان کے آئین کے خلاف غداری کا عمل ہے۔

علامتی پارلیمنٹ: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف عوامی مواخذے کی قرارداد منظور، 6 سنگین الزامات عائد

الزام نمبر 2: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ووٹر لسٹس کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے براہ راست ذمہ دار ہیں، جس کے تحت ووٹر لسٹس میں ردوبدل اور بڑے پیمانے پر ناموں کی کٹوتی کی گئی اور یہ عمل تباہ کن ثابت ہوا۔ انہوں نے قصداً اس بات کو یقینی بنایا کہ 13.2 کروڑ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹس سے حذف کر دیے جائیں، جس کے نتیجے میں وہ ہندوستان کے آئین کے ذریعہ حاصل حق رائے دہی سے محروم ہو گئے۔ یہ پورا عمل جانبدارانہ، غیر شفاف اور فطری انصاف کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی پر مبنی رہا ہے۔ یہ ایک مجرمانہ فعل اور ملک و ہندوستان کے آئین کے خلاف غداری کا عمل ہے۔


الزام نمبر 3: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پارلیمنٹ کی نگرانی یا اس کی جانکاری کے بغیر ہی ووٹروں کے اندراج سے متعلق قواعد کے فارم 6 میں غیر قانونی ترمیم کرنے کے قصوروار ہیں۔ اس کے ذریعے وہ پہلی بار ووٹر بننے والے شہریوں کے اندراج کو روکنے اور انہیں ہندوستان کے آئین کے ذریعے حاصل حق رائے دہی سے محروم کرنے کی مجرمانہ سازش میں شریک ہوئے، جس کے نتیجے میں ہندوستانی شہری کی حیثیت سے ان کے حقوق عملاً بے اثر ہو گئے۔ یہ ملک اور ہندوستان کے آئین کے خلاف غداری کا عمل ہے۔

علامتی پارلیمنٹ: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف عوامی مواخذے کی قرارداد منظور، 6 سنگین الزامات عائد

الزام نمبر 4: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ووٹر لسٹس سے ووٹرز کے نام حذف کرنے اور مقامی الیکٹورل رجسٹریشن افسران (ای آر او) کو اہل ووٹروں کے نام شامل کرنے سے روکنے کے مقصد سے ای آر او نیٹ/ای سی آئی نیٹ سافٹ ویئر کا بدنیتی پر مبنی استعمال کرکے ووٹر فہرستوں پر کنٹرول غیر قانونی طور پر الیکشن کمیشن کے ہاتھوں میں مرکوز کرنے کے قصوروار ہیں۔ یہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے عمل میں ہیرا پھیری کرنے کی مجرمانہ کوشش ہے، جس پر ہندوستان کے جمہوری ڈھانچے کی بنیاد قائم ہے۔ یہ ملک اور ہندوستان کے آئین کے خلاف غداری کا عمل ہے۔


الزام نمبر 5: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار الیکشن کمیشن کے سات دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر جان بوجھ کر قانون کی خلاف ورزی کرنے کے قصوروار ہیں۔ انہوں نے دیگر دو الیکشن کمشنروں کو دانستہ طور پر اور غیر قانونی طریقے سے فیصلہ سازی کے عمل سے باہر رکھا، جس کے نتیجے میں دونوں الیکشن کمشنروں کو سرکاری ریکارڈ میں کم از کم 14 اعتراضات درج کرانے پڑے۔ یہ ہندوستان کے آئین میں طے شدہ الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہے اور ملک و ہندوستان کے آئین کے خلاف غداری کا عمل ہے۔

علامتی پارلیمنٹ: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف عوامی مواخذے کی قرارداد منظور، 6 سنگین الزامات عائد

الزام نمبر 6: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے آزادانہ طور پر کام کرتے ہوئے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے اور ہندوستان کے آئین کے تحفظ کی اپنی آئینی ذمہ داری کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے بار بار اپوزیشن کو نشانہ بنایا، اس کی بات سننے سے انکار کیا اور اپوزیشن رہنماؤں کو اپنا موقف پیش کرنے سے روکنے کے لیے الیکشن کمیشن کے دروازے بند کر دیے۔ جب اپوزیشن رہنماؤں کو غیر قانونی طور پر نااہل قرار دیا گیا، انتخابات لڑنے سے روکا گیا اور ان کے دفتر کے باہر سڑکوں پر ان کے ساتھ وحشیانہ مارپیٹ کی گئی، تب وہ خاموش تماشائی بنے رہے۔


چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مذکورہ بالا سنگین الزامات عائد کیے جانے کے بعد انڈیا بلاک نے کہا کہ حکمراں بی جے پی کے تئیں اس شرمناک فرمانبرداری کے بدلے گیانیش کمار کے خاندان کے کئی افراد کو فوائد اور دیگر سہولتیں حاصل ہوئی ہیں، جن میں باوقار اور منافع بخش عہدوں پر تقرریاں اور مالی فوائد حاصل کرنے کے غیر معمولی مواقع شامل ہیں۔ ساتھ ہی اپوزیشن نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے اشارے پر کھلے عام اپنی آئینی ذمہ داری کے خلاف کام کر کے گیانیش کمار نے ہندوستانی عوام کے اعتماد اور بھروسے کو توڑا ہے۔ انہوں نے قصداً قانون کی حکمرانی کو کمزور کیا ہے اور جمہوری طریقے سے منعقد ہونے والے انتخابات کے نتائج میں رد و بدل کرنے اور انہیں غلط انداز میں پیش کرنے کی مجرمانہ سازش میں حصہ لیا ہے۔ یہ انتخابات ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد ہیں۔ یہ ملک اور ہندوستان کے آئین کے خلاف غداری کے اعمال ہیں۔

علامتی پارلیمنٹ: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف عوامی مواخذے کی قرارداد منظور، 6 سنگین الزامات عائد

انڈیا بلاک کے مطابق ’’مذکورہ حقائق کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ دسمبر 2023 میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو فراہم کردہ قانونی تحفظ کا مقصد ملک اور ہندوستان کے آئین کے خلاف ان کے مجرمانہ اعمال کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ لہٰذا اس قانونی تحفظ کو فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی انڈیا بلاک نے یہ بھی کہا کہ ’’31 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی میں جمع ہونے والے انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ، جو ہندوستان کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں، اور شہری یہ قرارداد منظور کرتے ہیں کہ ہندوستان کے عوام کے ساتھ اس سنگین دھوکہ دہی کے لیے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ہندوستان کے آئین کے تحت طے شدہ قانونی دائرہ کار کے مطابق عدالت میں غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔‘‘