’جن گن من‘ کے ساتھ ہوئی گیانیش کمار کے خلاف عوامی مواخذہ کی شروعات، میرا کمار کر رہیں صدارت

انڈیا بلاک میں شامل پارٹیاں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف علامتی طور پر ’عوامی مواخذہ‘ کی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ اس پروگرام میں اپوزیشن کی تقریباً 21 پارٹیاں شامل ہوئی ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی پارلیمنٹ کی قیادت کرتی ہوئیں میرا کمار، تصویر قومی آواز/وشودیپک</p></div>
i

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ نے اپنی جنگ میں شدت عطا کر دی ہے۔ آج کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی رہائش پر انڈیا بلاک میں شریک پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران جمع ہوئے ہیں اور گیانیش کمار کے خلاف ’عوامی مواخذہ‘ کی کارروائی بھی شروع ہو گئی ہے۔ اس پروگرام کو پارلیمانی کارروائی کی نقل کے طور پر چلایا جا رہا ہے اور عوامی مواخذہ کی کارروائی پوری طرح سے علامتی ہے۔ اس طرح اپوزیشن پارٹیاں یہ ظاہر کرنا چاہ رہی ہیں کہ جمہوریت کو بچانے اور ’ووٹ چوری‘ کا عمل روکنے کے لیے پہلا قدم چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ’عوامی مواخذہ‘ کی کارروائی ’جن گن من‘ کے ساتھ شروع ہوئی اور اس علامتی پارلیمانی کارروائی کی صدارت لوک سبھا کی سابق اسپیکر میرا کمار کر رہی ہیں۔ موصولہ اطلاع کے مطابق کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نے تحریک مواخذہ پیش کی، جس کے بعد بحث کا عمل شروع ہوا۔ گیانیش کمار کے خلاف تحریک مواخذہ میں سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی جیسی سرکردہ سیاسی ہستیاں بھی موجود ہیں، جس سے ’علامتی پارلیمانی کارروائی‘ ایک حقیقی پارلیمانی بحث جیسا ماحول پیدا کر رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس علامتی پارلیمانی کارروائی میں اپوزیشن کی تقریباً 21 پارٹیاں شامل ہوئی ہیں، اور ان پارٹیوں کے تقریباً 30 مقررین بحث کا حصہ بنیں گے۔ یہ بھی جانکاری سامنے آئی ہے کہ راہل گاندھی پروگرام کے آخر میں اپنی بات رکھیں گے۔


قابل ذکر ہے کہ چیف اپوزیشن پارٹیاں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف استعفیٰ کا مستقل مطالبہ کر رہی ہیں۔ اپوزیشن کی یہ ناراضگی ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) اور مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کی وجہ سے ہے۔ عوامی مواخذہ کی یہ کارروائی پہلے 30 اکتوبر کو ہونی تھی، لیکن دہلی میں ہوئی بارش کے سبب اسے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اب یہ پروگرام یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں ہونے والی انڈیا بلاک کی ریلی سے عین ایک روز قبل ایک طرح سے ’کرٹن ریزر‘ کے طور پر بھی کام کر رہا ہے۔

بہرحال، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مواخذہ پروگرام پر ششی تھرور نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ’’چیف الیکشن کمشنر نے انتخابی عمل کے ایک غیر جانبدار امپائر کی شکل میں خود کو نااہل ظاہر کر دیا ہے۔ اسی پیغام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’میری جانکاری کے مطابق کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے امپیچمنٹ نوٹس کو نہ تو لوک سبھا کے سربراہ (اسپیکر) اور نہ ہی راجیہ سبھا کے سربراہ (چیئرمین) کے ذریعہ قبول کیا گیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہمارے پاس یہاں (سڑکوں پر عوامی طور سے) مواخذہ کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہیں بچا ہے۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’اگر وزیر داخلہ برائے کرم راجیہ سبھا کے سربراہ اور لوک سبھا کے سربراہ کو امپیچمنٹ نوٹس قبول کرنے کا مشورہ دیں، تو ہم پارلیمنٹ کے اندر ہی اس پر بحث کریں گے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔