مرادآباد میں مسلم کاروباری پر ہجومی تشدد، جے شری رام نہیں بولنے پر کپڑے اتار کر بیلٹ سے پیٹا

عاصم حسین نے بتایا کہ حملہ آوروں نے انہیں جے شری رام کا نعرہ لگانے کو کہا اور جب انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو انہوں نے ان کے کپڑے اتار دیئے اور بیلٹ سے بری طرح مارنا شروع کر دیا۔

موب لنچنگ، تصویر آئی اے این ایس
موب لنچنگ، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

مرادآباد: اتر پردیش کے مرادآباد کے رہائشی ایک مسلم کاروباری کے ساتھ موب لنچنگ کی واردات انجام دی گئی ہے۔ نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ کے مطابق دہلی سے مرادآباد آتے وقت پدماوت ایکسپریس ٹرین میں کچھ شرپسندوں نے کاروباری کے ساتھ لنچنگ کی واردات کو انجام دیا۔ اس واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس کے بعد ریلوے پولیس نے دو ملزمان کو بریلی اسٹیشن سے گرفتار کر لیا۔ متاثرہ کاروباری کا تعلق مرادآباد سے ہے۔

متاثرہ کاروباری عاصم حسین نے بتایا کہ وہ پیتل کا کاروبار کرتے ہیں اور اسی سلسلہ میں دہلی گئے تھے۔ واپس لوٹتے وقت وہ پدماوت ایکسپریس کے جنرل ڈبے میں سوار تھے۔ جس وقت ٹرین ہاپوڑ اسٹیشن پر ٹھہری تو اس میں کچھ نوجوان داخل ہو گئے، جنہوں نے چلتی ٹرین میں ان کے ساتھ مار پیٹ شروع کر دی۔ عاصم نے کہا کہ حملہ آوروں نے ان کی داڑھی کھینچی اور انہیں چور قرار دے کر تشدد کا نشانہ بنایا۔


عاصم حسین نے بتایا کہ حملہ آوروں نے انہیں جے شری رام کا نعرہ لگانے کو کہا اور جب انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو انہوں نے ان کے کپڑے اتار دیئے اور بیلٹ سے بری طرح مارنا شروع کر دیا اور انہیں اس حد تک زدوکوب کیا کہ وہ بے ہوش ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعہ کے وقت ٹرین کے ڈبے میں کافی لوگ موجود تھے لیکن کسی نے انہیں بچانے کی کوشش نہیں کی اور غنڈے انہیں مارتے رہے۔ اسی دوران جب ٹرین مرادآباد اسٹیشن کے قریب پہنچی تو پلیٹ فارم سے پہلے ہی کسی نے انہیں ٹرین سے نیچے پھینک دیا۔

رات کو وہ ایک جاننے والے کی مدد سے گھر پہنچے۔ خوف کی وجہ سے انہوں نے اس واقعہ کی پولیس میں شکایت بھی درج نہیں کرائی لیکن کسی نے اس واقعے کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کر دی۔ ویڈیو دیکھنے کے بعد ریلوے پولیس بھی حرکت میں آ گئی اور اپنی سطح پر کارروائی کی۔


جی آر پی مرادآباد کے سی او کا کہنا ہے کہ ٹرین میں لنچنگ کے واقعہ میں ملوث دو نوجوانوں کو پولیس نے بریلی ریلوے اسٹیشن سے گرفتار کر لیا ہے لیکن متاثرہ نے اس معاملے میں شکایت نہیں کی، اس لیے پولس ان کا انتظار کر رہی تھی۔ وہیں، دوسری طرف ویڈیو وائرل ہونے کے بعد متاثرہ تاجر نے مرادآباد جی آر پی میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کی شکایت درگ کرا دی ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے اور اس پورے معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔

پولیس کے مطابق متاثرہ کی شکایت پر کارروائی کی جائے گی۔ یہ واقعہ سنگین ہے اسی لیے سنجیدگی سے تحقیقات کی جا رہی ہے۔ واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خوفزدہ متاثرہ شخص نے شکایت کرائی، جس سے ٹرین میں سوار مسافروں کی حفاظت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ ناظمہ فہیم</p></div>

تصویر بشکریہ ناظمہ فہیم


اس درمیان کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کے مراد آباد مہانگر صدر وقیع رشید نے ایک پریس بیان جاری کر پورے معاملے کی جانکاری دی ہے۔ انھوں نے جاری بیان میں بتایا ہے کہ ’’14 جنوری کو مراد آباد کے مہانگر دفتر پر ایک میٹنگ کی گئی جس میں مراد آباد کے پیرزادہ کے رہنے والے محمد عاصم پر پدماوت ایکسپریس میں داڑھی پکڑ کر پیٹنے اور جئے شری رام کا نعرہ لگوائے جانے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ اس واقعہ کی خبر ملتے ہی مراد آباد کے مہانگر صدر حاجی وقیع رشید صلاح و مشورہ کے بعد ایڈووکیٹ محمد عاصم کے ساتھ جی آر پی تھانے پہنچے اور ایف آئی آر درج کرانے کے لیے تحریر دی جس میں جی آر پی سی او دیوی دیال نے قصورواروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی۔‘‘

مرادآباد میں مسلم کاروباری پر ہجومی تشدد، جے شری رام نہیں بولنے پر کپڑے اتار کر بیلٹ سے پیٹا

پریس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر محمد عاصم کے ساتھ ہوئے واقعہ میں ملوث سبھی قصورواروں پر کارروائی نہیں ہوتی ہے تو مراد آباد نگر مجلس تحریک کرنے کے لیے مجبور ہوگی۔ حاجی وقیع رشید کا کہنا ہے کہ کٹر پسند ہندو تنظیموں پر کارروائی کی جائے تاکہ ہندوستان ’وشو گرو‘ بن سکے۔

(ناظمہ فہیم کے اِن پٹ کے ساتھ)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔