علی گڑھ: مسلم فیملی کی ’موب لنچنگ‘! خواتین کی پٹائی سے اے ایم یو طلبا میں ناراضگی

اے ایم یو طلبا نے مسلم فیملی پر کیے گئے حملے کے خلاف جی آر پی تھانہ کا گھیراؤ کیا تب جا کر اس سلسلے میں رپورٹ درج ہوئی۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں ماحول کافی کشیدہ ہے۔

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد

آس محمد کیف

ملک میں بڑھتے ہجومی تشدد کے درمیان علی گڑھ ریلوے اسٹیشن پر ایک ایسا شرمناک معاملہ سامنے آیا ہے جو حساس طبقہ کے لیے باعث فکر ہے۔ یہاں درجنوں لوگوں کی ایک بھیڑ نے اچانک ہی وہاں موجود ایک مسلم فیملی پر حملہ کر دیا۔ اس حملہ کے بعد وہاں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ بھیڑ کے اس حملے میں توفیق اور شہیم نامی شخص کے ساتھ ساتھ دو خواتین بھی زخمی ہوئی ہیں۔ جیسے ہی یہ خبر علاقے میں پھیلی، بڑی تعداد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طالب علم موقع پر پہنچ گئے اور اس وقت حالات کافی کشیدہ ہیں۔

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد

واقعہ اتوار کی دیر شام تقریباً 5 بجے کا ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ ہنگامہ سیٹ پر بیٹھنے کو لے کر شروع ہوا تھا جو اچانک ہی مار پیٹ تک پہنچ گیا۔ جب یہ مسلم فیملی علی گڑھ ریلوے اسٹیشن پر اتری تو وہاں پہلے سے موجود شورش پسند لوگوں نے اچانک حملہ کر دیا۔ اے ایم یو طلبا نے مسلم فیملی پر کیے گئے حملے کے خلاف جی آر پی تھانہ کا گھیراؤ کیا تب جا کر اس سلسلے میں رپورٹ درج ہوئی۔ علی گڑھ میں اتوار کی دیر رات اس معاملے نے طول پکڑ لیا اور علاقے میں ماحول کافی کشیدہ ہو گئے۔

خبروں کے مطابق اتوار کی شام قنوج کی ایک فیملی پر دو درجن سے زائد لوگوں نے حملہ کر دیا۔ الزام ہے کہ خواتین کے برقع پہنے ہونے اور مسلم ہونے کی وجہ سے حملے میں شدت تھی۔ جی آر پی نے زخمیوں کو جے این میڈیکل کالج میں داخل کرایا ہے۔ اس تعلق سے اے ایم یو طلبا کی مداخلت کے بعد انتظامیہ سرگرم ہوئی۔ جی آر پی کے مطابق ایک درجن لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کر سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر ان کی شناخت کی جا رہی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ قنوج کے گھماچامئو علاقہ کی رہنے والی افسانہ اپنے بیٹے شفیق، دیور توفیق، چچیا سسر شہیم، چچیا ساس حسرن النساء اور ان کی بیٹی نساء کے ساتھ مئو آنند بہار ہفتہ واری ٹرین سے اتر رہی تھیں۔ پوری فیملی قنوج سے شفیق کے لیور میں ہوئے انفکشن کا علاج کرانے جے این میڈیکل کالج آئی تھی۔ متاثرہ فیملی کا الزام ہے کہ اسی دوران تقریباً دو درجن لوگ آئے اور ٹرین سے اترتے وقت مار پیٹ کرنے لگے۔ تنازعہ اتنا بڑھا کہ انھوں نے پوری فیملی کو نشانہ بنا یا۔ اس میں توفیق اور شہیم کے سر اور جسم کے مختلف حصوں پر چوٹیں آئیں۔ خواتین نے چیخ و پکار مچائی تو اسٹیشن پر افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔

زخمی توفیق نے بات چیت کے دوران بتایا کہ انھیں بری طرح سے پیٹا گیا۔ بھیڑ انھیں تو پیٹ ہی رہی تھی، ان کی امی، بھابھی اور بھتیجی کو بھی بری طرح لات، گھونسوں و ڈنڈوں سے پیٹا گیا۔ پیٹنے والے درجنوں لوگ تھے۔ توفیق کا کہنا ہے کہ بھیڑ مذہب پر مبنی تبصرے کر رہی تھی اور لگاتار حملے کر رہی تھی۔ متاثرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس دوران وہاں موجود کسی نے بچانے کی کوشش بھی نہیں کی۔

اطلاعات کے مطابق جب پولس والوں کی اس واقعہ کی خبر ملی تو جی آر پی کی ٹیم وہاں پہنچی۔ حالانکہ اس وقت تک حملہ آوار فرار ہو چکے تھے۔ جی آر پی کی ٹیم زخمیوں کو لے کر جے این میڈیکل کالج پہنچی۔ اے ایم یو کے طلبا بھی یہاں پہنچے اور پھر ماحول کافی گرم ہو گیا۔

اے ایم یو طلبا یونین کے صدر سلمان امتیاز کا کہنا ہے کہ ’’جس طرح سے بھیڑ نے مسلم سماج کے لوگوں پر حملہ کیا، اس کی وہ پرزور مذمت کرتے ہیں۔ اگر اس طرح کی حرکتوں کو نہیں روکا گیا تو وہ دن دور نہیں جب ہٹلر کے دور میں جو حال جرمنی کا ہوا تھا، وہی حال ہندوستان کا ہو جائے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہندوتوا کے نام پر یہ لوگ ہندو مذہب کو بدنام کر رہے ہیں اور علی گڑھ کی گنگا-جمنی تہذیب کو بگاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ علی گڑھ کے عوام ہرگز ایسا نہیں ہونے دے گی۔ ہم اس ملک سے آتے ہیں جہاں برقع، ٹوپی، تلک، پگڑی سب کی عزت کی جاتی ہے اور ہر فاشسٹ طاقتوں کا منھ توڑ جواب دیا جاتا ہے۔‘‘

واقعہ کے بعد اے ایم یو طلبا میں بڑھتی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے جی آر پی انسپکٹر یشپال سنگھ اے ایم یو پہنچ گئے۔ انھوں نے طلبا کو سمجھاتے ہوئے معاملے میں کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔ اس یقین دہانی کے بعد طلبا کی ناراضگی کچھ کم ہوئی۔ زخمی توفیق کی جانب سے دو درجن نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف تحریر دی گئی ہے۔ انسپکٹر یشپال سنگھ کے مطابق متاثرہ فیملی کی جانب سے دی گئی تحریر کی بنیاد پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

Published: 16 Sep 2019, 7:10 PM