افشار انصاری کی موب لنچنگ سے بھاگلپور میں کشیدگی، بیٹے کی موت سے ماں بے دم

ملک میں موب لنچنگ کے واقعات بڑھتے ہی جا رہے ہیں، جس طرح بچہ چور بتا کر لوگوں کو مارا جا رہا ہے وہ فکر انگیز ہے۔ تازہ معاملہ بھاگلپور کا ہے جہاں افشار انصاری نامی دہاڑی مزدور کو پیٹ پیٹ کر مار دیا گیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بھاگلپور میں افشار انصاری نامی دہاڑی مزدور کے قتل سے سراسیمگی کا عالم ہے۔ 36 سالہ اس نوجوان کی بھیڑ کے ذریعہ پیٹ پیٹ کر ہلاک کیے جانے کی خبر پھیلتے ہی ماحول میں کشیدگی پھیل گئی اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ افشار کی موب لنچنگ بچہ چوری کے شبہ میں ہوئی۔ حالانکہ اس کے جاننے والے لوگوں اور اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ تو مزدوری کر کے گھر والوں کا پیٹ پالتا تھا اور اپنی مصروفیت کی وجہ سے گھرکبھی کبھی ہی اس کا آنا ہوتا تھا۔

دراصل ہفتہ کی شام کو افشار انصاری بھیڑ کی لنچنگ کا شکار ہوئے۔ واقعہ جگدیش پور تھانہ حلقہ کے چک فاطمہ کے پاس پیش آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ افشار اسی راستے سے اپنے گھر میرا چک لوٹ رہا تھا۔ کچھ لوگوں نے بچہ چور سمجھ کر اسے پکڑ لیا اور پٹائی شروع کر دی۔ اس پٹائی سے جب نوجوان نیم مردہ ہو گیا تو لوگوں نے اسے اٹھا کر قریب واقع ندی کے پاس پھینک دیا۔ بری طرح زخمی افشار وہاں تڑپتا رہا اور پھر موت کی آغوش میں چلا گیا۔

جب اس کی اطلاع علاقے میں پھیلی اور افشار کے گھر والوں کو خبر ملی تو ایک ماتم کا سماں پیدا ہو گیا۔ افشار کے گاؤں میں حالات کافی کشیدہ ہو گئے اور لوگوں نے پولس کے تئیں ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجنے سے منع کر دیا۔ حالانکہ بعد میں جب پولس و انتظامیہ نے انھیں سمجھایا اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی تو لوگ خاموش ہوئے۔

تازہ ترین خبروں کے مطابق پولس نے چار نامزد لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے اور ان کی گرفتاری بھی عمل میں آ گئی ہے۔ نامزد ملزمین کے نام کندن یادو، موہن رائے، پپو رائے اور کارتک رائے ہیں۔ پولس ان سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ ان لوگوں نے مل کر ایک دہاڑی مزدور کو بچہ چور کیوں سمجھا اور پھر اس کی بے دردی سے پٹائی کیوں کی۔

ہندی نیوز پورٹل ’جن ستّا‘ میں شائع خبروں کے مطابق مہلوک افشار کی ماں بی بی عمرانہ اس واقعہ سے بے دم نظر آ رہی ہیں۔ انھوں نے پولس کو ایک تحریر دی ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’میرا بیٹا مزدوری کر کے اپنی زندگی گزارتا تھا اور بانکا واقع اپنی سسرال میں رہتا تھا۔ ہفتہ کی شام وہ مزدوری کر کے اپنے گھر میرا چک مجھ سے ملنے آ رہا تھا۔ وہ کبھی کبھی ہی اپنے گھر آتا تھا۔ اسی دوران راستے میں گاؤں والوں نے اسے بچہ چور سمجھ کر بے رحمی سے پیٹنا شروع کر دیا اور پیٹ پیٹ کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔‘‘

Published: 21 Oct 2019, 6:10 PM