ہوتے ہوتے رہ گئی موب لِنچنگ! ’شکیل ‘ نے جان پر کھیل کر بچائی ’پروین‘ کی جان

یو پی کے سابق وزیر کلدیپ اجول نے کہا کہ کاش اس طرح کی جرأت کا مظاہرہ موب لنچنگ کے دیگر واقعات کے وقت بھی کیا گیا ہوتا تو کئی بے گناہ لوگ آج زندہ ہوتے۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

آس محمد کیف

باغپت: ملک بھر میں موب لنچنگ کا ایسا دور دورہ ہے کہ ہجوم کسی بھی شخص کو شبہ کی بنیاد پر نشانہ بنانے سے نہیں چوک رہی۔ گزشتہ کچھ سالوں میں سینکڑوں موب لنچنگ کی واردات ہو چکی ہیں جن میں متعدد لوگوں نے اپنی جان گنوائی۔ ایسا ہی ایک موب لنچنگ کا واقعہ باغپت میں بھی پیش آنے والا تھا، جہاں بچہ چوری کے الزام میں ایک شخص کو ہجوم نے گھیر لیا لیکن یہاں پر ڈاکٹر شکیل نے اپنی جان پر کھیل کر پروین کو بچا لیا۔

واقعہ جمعرات (22 اگست ) کی دوپہر کو پیش آیا جب باغپت کے مسلم اکثریتی علاقہ محلہ ماتا رانی میں واقع ایک پان کی دکان پر دو مشتبہ افراد کو دیکھا گیا، دونوں سے کوئی مقامی باشندہ واقف نہیں تھا۔ لوگوں شک ہوا کہ وہ دونوں بچہ چوری کے ارادے سے آئے ہیں اور موقع پر بھیڑ جمع ہونے لگی۔ ماحول کو بھانپ کر ایک نوجوان تو فرار ہونے میں کامیاب رہا لیکن دوسرے کو بھیڑ نے پکڑ لیا اور اس کے ساتھ مار پیٹ کرنے لگے۔

اس کے بعد نزدیک ہی میڈیکل پریٹس کرنے والے ڈاکٹر شکیل احمد اس شخص کو بچانے کے لئے ہجوم سے بھڑ گئے اور انہوں نے اسے اپنے گھر میں بند کر کے باہر سے تالا لگا دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ایک گھنٹہ تک جب تک پولس موقع پر نہیں پہنچ گئی ہجوم میں شامل لوگ مشتبہ شخص کو قبضہ میں لینے کی کوشش کرتے رہے۔ بعد میں پولس سے بھی اسے چھیننے کی کوشش کی گئی لیکن بھیڑ کو کامیابی نہیں مل سکی۔

ہوتے ہوتے رہ گئی موب لِنچنگ!  ’شکیل ‘ نے جان پر کھیل کر بچائی ’پروین‘ کی جان

بعد میں نوجوان کی شناخت پروین کمار رہائشی غازی آباد کے طور پر ہوئی، حالانکہ اب تک اس کے مسلم اکثرتی علاوہ میں جانے کا مقصد معلوم نہیں ہو سکا ہے۔ پولس کے مطابق اس کی جانچ کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ بچہ چوری کی افواہ کیوں پھیلی یہ بتانے میں بھی پولس ناکام ہے۔

واقعہ کے عینی شاہد اور پروین کو موب لنچنگ کے بچانے والے شکیل احمد نے قومی آواز کو بتایا، ’’میرے گھر کے نزدیک 20-25 لوگ ایک نوجوان سے مار پیٹ کر رہے تھے، میں ان کے پاس گیا اور پوچھ کہ آخر معاملہ کیا ہے! لوگوں نے مجھے بتایا کہ یہ بچہ چور ہے۔ اس پر میں نے انہیں سمجھایا کہ اگر یہ بچہ چور بھی ہے تو بھی اسے پولس کو سونپ دیتے ہیں لیکن ہجوم اس پر راضی نہیں ہوا۔‘‘

ڈاکٹر شکیل نے مزید بتایا، ’’لوگوں کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ اس دوران نوجوان نے اپنا نام پروین بتایا۔ اس کے بعد مجھے ماحول کے فرقہ وارانہ ہونے کا خدشہ محسوس ہوا اور میں نے نوجوان کو جبراً بھیڑ سے آزاد کرا کر اپنے گھر میں بند کر دیا۔‘‘ شکیل کے مطابق اس دوران انہوں نے مقامی پولس انسپکٹر کو بھی فون کیا لیکن فون نہیں اٹھ سکا، اس کے علاوہ ڈائل 100 پر بھی بات نہیں ہو پائی۔ حالانکہ ایس پی باغپت نے فوری سماعت کی اور پولس موقع پر پہنچ گئی۔

شکیل نے کہا، ’’کچھ لوگ مجھ پر تنقید بھی کر رہے ہیں لیکن میں نے وہی کیا جو میرے ضمیر نے مجھ سے کہا۔ اگر بھیڑ پروین کی موب لنچنگ کر دیتی تو یقینی طور پر ہندو مسلم کشیدگی پھیلنے کا خدشہ تھا۔‘‘

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

افسوسناک بات یہ ہے کہ واقعہ کے بعد شکیل کے جرأت مندانہ اقدام کے باوجود مقامی انتظامیہ نے ان کی ستائش نہیں کی ہے۔ شکیل کے مطابق انہوں نے پولس انسپکٹر کو معاملہ کی تازہ صورت حال معلوم کرنے کی غرض سے فون ملایا لیکن کال ریسیو نہیں ہوئی۔ تاہم اکثریتی طبقہ کی طرف سے ڈاکٹر شکیل کی کافی ستائش کی جا رہی ہے۔

شکیل کو افسوس ہے کہ ملک بھر میں کئی مقامات پر لنچنگ کے دوران کسی نے بھی اس کی مخالفت نہیں کی۔ انہوں نے کہا، ’’اگر بھیڑ میں سے دو چار لوگ بھی موب لنچنگ کے خلاف کھڑے ہو جائیں تو اس شرم ناک جرم کو ٹالا جا سکتا ہے۔‘‘

باغپت کے رہائشی اور اتر پردیش حکومت کے سابق وزیر کلدیپ اجول کے مطابق ملک بھرمیں ہوئی موب لنچنگ سے یہ بالکل علیحدہ معاملہ تھا۔ یہاں بھیڑ اقلیتی طبقہ سے تھی اور مشتبہ شخص اکثرتی طبقہ سے۔ بھیڑ مشتعل تھی اور انہیں پورا یقین تھا کہ وہ شخص بچہ چور ہے۔ لیکن شکیل نے سچے ہندوستانی ہونے کا ثبوت پیش کیا اور اس نوجوان کی جان بچائی۔‘‘

کلدیپ اجول مزید کہتے ہیں، ’’کاش اس طرح کی جرأت کا مظاہرہ موب لنچنگ کے دیگر واقعات کے وقت بھی کیا گیا ہوتا تو کئی بے گناہ لوگ آج زندہ ہوتے۔‘‘

Published: 23 Aug 2019, 8:10 PM