دہلی کو نفرت کی آگ میں جھنوکنے کی کوشش

4 سال سال میں مودی حکومت کا کوئی قابل ذکر کانامہ نہیں، لہذا آر ایس ایس اور دیگر ہندووادی تنظیموں نے ہندو ووٹ بینک کو اپنی جانب مائل کرنے کے لئے مسلمانوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔

نئی دہلی:فرقہ پرست قوتیں ملک بھر میں نفرت پھیلانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑ رہی ہیں ۔ قومی راجدھانی دہلی کو بھی اس نفرت کی آگ میں جھلسانے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے اور اس مقصد سے دہلی میں کئی مقامات پر مسلم مخالف پوسٹر لگائے گئے ہیں ۔

پوسٹروں میں ایسے قابل اعتراض نعرے لکھے گئے ہیں جو شہر کا ماحول خراب کرنے کے لئے کافی ہیں ۔ حالانکہ پوسٹر چسپاں کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن جس طرح کی باتیں پوسٹر میں درج ہیں انہیں سرسری طورپر پڑھ کر ہر کوئی سمجھ سکتا ہے کہ لگانے والوں کامقصد سیاست اور سیاست بھی نفرت کی سیاست ہے۔

مودی حکومت کے دور اقتدار میں مذہبی منافرت بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ بی جے پی گزشتہ 4 سال سے بر سر اقتدار ہے ۔ پھر بھی اس کے کھاتے میں کوئی ایسا قابل ذکر کارنامہ نہیں ہے جسے وہ آئندہ عام انتخابات میں پیش کر کے ووٹ مانگ سکیں۔ لہذا آر ایس ایس اور دیگر ہندووادی تنظیموں نے ہندو ووٹ بینک کو اپنی جانب مائل کرنے کے لئے مسلمانوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔

مسلم مخالف پوسٹر دہلی کے کئی علاقوں میں چسپاں کئے گئے ہیں لیکن براڑی علاقے میں یہ کثیر تعداد میں نظر آ رہے ہیں، ان پوسٹروں میں کشمیر، ہندو-مسلمان اور جہاد جیسے ایشوز پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ پوسٹر میں ایک ہندو تنظیم کے صدر نے اپنا نام، فون نمبر اور فوٹو تک لگایا ہے۔

پوسٹر میں کشمیری جہادی مسلمانوں کو پاکستان بھگاؤ، کشمیر بچاؤ، آرٹیکل 370 ہٹاؤ، کشمیری پنڈتوں کو بساؤ جیسے نعرے لکھے ہوئے ہیں۔ تاحال پولس کی طرف سے کسی طرح کی کارروائی ہونے کی بات سامنے نہیں آئی ہے ، لیکن پوسٹر وں میں جس طرح کی زبان استعمال کی گئی ہے اس سے ماحول خراب ہو سکتا ہے۔

غور طلب ہے کہ آرٹیکل 370 کو لے کر ملک میں طویل مدت سے وبال جاری ہے، اس تعلق سے سپریم کورٹ میں عرضی زیر غور ہے۔ 3سال سے زیادہ وقت تک کشمیر میں ایک ساتھ بی جے پی- پی ڈی پی نے مل کر حکومت چلانے کے بعد بی جے پی نے محبوبہ مفتی کا ساتھ چھوڑ دیا جس کے سبب کشمیرحکومت گر گئی۔ فی الحال وہاں گورنر راج نافذ ہے۔ قبل ازیں بی جے پی کے تعاون سے وزیر اعلیٰ بنیں محبوبہ مفتی نے کشمیری پنڈتوں کو واپس کشمیر لوٹنے کے لئے کہا تھا اور سیکورٹی دینے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔

پوسٹر سودیشی ہندو ایکتا منچ کی جانب سے چسپاں کیے گئے ہیں، خود کو اس تنظیم کا صدر کہنے والے بال کشن سنسوار نے پوسٹرپر اپنا فوٹو بھی لگوایا ہے۔’ قومی آواز‘ نے بال کشن سنسنوار سے ان کا موقف جاننے کی کوشش کی تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا کسی سیاسی پارٹی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، لیکن وہ نریندر مودی کو دوبارہ وزیر اعظم بنتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

جب پوسٹر کے تعلق سے ان سے سوال پوچھا گیا تو بال کشن نے کہا ’’پوسٹر میں صرف کشمیری جہادیوں کو پاکستان بھگانے کی بات لکھی ہے، لیکن ملک کے دیگر مسلمان ہمارے بھائی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر سے آرٹیکل 370 کو ہٹایا جائے۔ ہمیں امید ہے کہ مودی جی یہ کام کر سکتے ہیں۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ یہ پوسٹر پہلی بار نہیں لگائے گئے ہیں بلکہ ہم پہلے بھی ایسے پوسٹر لگاتے رہے ہیں، ان کے مطابق جب ہندوستان نے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اس وقت بھی انہوں نے پوسٹر لگا کر اس فیصلہ کی مخالفت کی تھی۔ ‘‘

کشمیر میں 3 سال سے زیادہ وقت تک محبوبہ مفتی کے ساتھ بی جے پی مخلوط حکومت میں شامل رہی ہے ۔اس سلسلے میں بال کشن کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے مخلوط حکومت میں رہتے گذشتہ حکومتوں سے بہتر کام کیا، ان کے مطابق فوج کو فری ہینڈ دینا بی جے پی حکومت کی کامیابی ہے۔

پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت کے دوران عوامی احتجاج، سرحدی گولہ باری، عام شہریوں کے ساتھ ساتھ فوجی اہلکاروں کی جو جانیں گئیں اس پر بال کشن کچھ نہیں کہتے۔

بال کشن جو مطالبات مرکزی حکومت سے کر رہے ہیں ان سبھی ایشوز کو بی جے پی نے 2014 کے انتخابات میں اپنے انتخابی منشور کا حصہ بنایا تھا اور حکومت میں آنے کے بعد انتخابی منشور پر عمل درآمد کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔ لیکن گذشتہ 4 سال سے بی جے پی اقتدار میں ہے، پھر بھی انتخابی منشور میں کیے گئے وعدے بی جے پی نے ابھی تک پورے نہیں کیے ہیں۔ اس پر بال کشن کا کہنا ہے کہ’’ 4 سال کا وقت زیادہ نہیں ہوتا لہذا مودی جی کو مزید وقت دینا چاہئے۔‘‘

سب سے زیادہ مقبول