جموں و کشمیر: حالات کا جائزہ لینے 27 اگست کو روانہ ہوگا اقلیتی وزارت کا 4 رکنی وفد

مختار عباس نقوی نے بتایا کہ چار رکنی وفد کشمیر میں انتظامیہ کے ذمہ داروں کے علاوہ عوامی اور سماجی ذمہ داروں سے بھی ملاقات کرے گا اور اقلیتی وزارت کو مکمل طور پر فعال کرنے کے امکانات کا جائزہ لے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ایک طرف تو اپوزیشن پارٹی کے کسی بھی لیڈر کو جموں و کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے وہاں کی زمین پر قدم نہیں رکھنے دیا جا رہا ہے، اور دوسری طرف اقلیتی وزارت کا چار رکنی وفد کشمیر کا دورہ کرنے والا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق جموں و کشمیر میں اقلیتی وزارت کی بہبودی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لئے محکمے کا ایک چار رکنی وفد کل سے کشمیر کا دوروزہ دورہ کرے گا۔

مرکزی وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے اس سلسلے میں اطلاع دیتے ہوئے بتا یا کہ اب چونکہ وقف ایکٹ کا دائرہ عمل بھی ملک کے اُس غیر مشروط حصے تک وسیع ہوگیا ہے اس لئے وہاں کی عوامی زندگی میں انقلاب لانے کی کوششوں کو مربوط بنانے میں خاطر خواہ کامیابی کے امکانات روشن نظر آتے ہیں۔ خبروں کے مطابق کشمیر کا دورہ کرنے والے وفد میں پردھان منتری جن وکاس کاریکرم( پی ایم جے وی کے)اور قومی اقلیتی کمیشن کی جوائنٹ سکریٹری نگار فاطمہ حسین بھی شامل ہیں ۔

اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے ’یو این آئی‘ کے ایک نمائندہ سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ وفد وہاں انتطامیہ کے ذمہ داروں کے علاوہ عوامی اور سماجی ذمہ داروں سے بھی ملاقات کرے گا اور اقلیتی وزارت کو مکمل طور پر فعال کرنے کے امکانات کا جائزہ لے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفد کی واپسی پر وہ خود بھی کشمیر جائیں گے اور متعلقہ زمرے کے بہبودکے لئے نشان زدکڑیوں کو جوڑنے کے اقدامات کریں گے۔

مختار عباس نقوی نے مزید بتایا کہ آنے والے دنوں میں لداخ اور جموں میں بھی یہ مشق کی جائے گی تاکہ اقلیتی امور کے محکمے کو جموں و کشمیر اور لداخ میں پورے طور پر فعال کیا جا سکے ۔ اس طرح وہاں کے لوگوں کے معیار زندگی کو بلند کرنے میں حکومت کی پالیسیاں بہتر طور پر عمل میں لائی جا سکیں گی۔

واضح رہے کہ 24 اگست کو کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی سمیت مختلف اپوزیشن پارٹیوں کے 11 لیڈران جموں و کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے سری نگر ائیر پورٹ پر پہنچے تھے لیکن ان میں سے کسی کو بھی ائیر پورٹ سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا۔ اس درمیان صحافیوں کے ساتھ وہاں کی انتظامیہ کے افسران نے بدسلوکی بھی کی۔ کافی ہنگامہ ہونے کے بعد سبھی اپوزیشن لیڈروں کو وہاں سے واپس دہلی آنا پڑا۔ بعد ازاں کئی سیاسی لیڈروں نے حکومت کے اس عمل کو نامناسب ٹھہرایا اور کہا کہ جموں و کشمیرمیں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے، اسی لیے وہاں کسی کو بھی جانے نہیں دیا جا رہا۔

Published: 26 Aug 2019, 8:10 PM