زرعی قوانین اجلاس سے وزیر زراعت ندارد! ناراض کسان رہنماؤں نے قانون کی نقل پھاڑ ڈالی

ایک کسان رہنما نے کہا کہ ’’ہم باہر چلے آئے کیونکہ کوئی بھی وزیر اجلاس میں شامل ہونے کے لئے نہیں آیا۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان قوانین کو واپس لیا جائے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: پارلیمنٹ سے منظور شدہ زرعی قوانین پر زرعت کے سکریٹری سے مذاکرات کے لئے بدھ کے روز 29 کسان تنظیموں کے لیڈران دہلی پہنچے، لیکن اجلاس کسی اتفاق رائے پر نہیں پہنچ سکا۔ کسان رہنماوں نے ناراض ہو کر اجلاس چھوڑ دیا اور باہر آنے کے بعد قانون کی کاپی کو پھاڑ ڈالا۔ ایک کسان یونین کے رہنما نے کہا، ’’ہم بات چیت سے مطمئن نہیں تھے اس لئے ہم باہر چلے آئے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان سیاہ قوانین کو ختم کر دیا جائے۔ سکریٹری نے کہا کہ وہ ہماری مانگوں کو آگے بھی بتائیں گے۔‘‘

وہیں ایک دیگر کسان رہنما نے کہا، ’’ہم باہر چلے آئے کیونکہ کوئی بھی وزیر اجلاس میں شامل ہونے کے لئے نہیں آیا۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان قوانین کو واپس لیا جائے۔‘‘ غور طلب کہ کہ پنجاب کے کسان نئے زرعی قوانین کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں واپس لیا جائے کیونکہ یہ کسانوں کے حق میں نہیں ہیں۔ قبل ازیں، منگل کے روز چنڈی گرھ میں 29 کسان تنظیموں کے نمائندگان کا اجلاس ہوا تھا، جس میں فیصلہ لیا گیا تھا کہ دہلی میں زرعی قوانین کے حوالہ سے مرکز کے ساتھ بدھ کے روز بات چیت کی جائے گی۔

چنڈی گڑھ میں بی کے یو (بھارتیہ کسان یونین) اگراہان کے جنرل سکریٹری سکھ دیو سنگھ کوکری کلاں نے کہا تھا، ’’ہمارے تین ارکان دہلی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ بی کے یو (راجے وال) کے صدر بلبیر سنگھ راجے وال نے منگل کے روز میڈیا کو بتایا کہ مرکز کے ساتھ بات چی کے لئے سات ارکان پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی ہے۔

وہیں، پیر کے روز کسان مزدور سنگھرش کمیٹی نے مرکزی محکمہ زراعت کی طرف سے آج طلب کیے گئے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کسان تنظیموں نے گزشتہ ہفتہ بھی 8 اکتوبر کو ان کے خدشات کو دور کرنے کے ارادے سے طلب کی گئی کانفرنس میں حصہ لینے کی مرکز کی دعوت کو نامنظور کر دیا تھا۔ ان تنظیموں کی تحریکوں سے ریاست میں ریل ٹریفک متاثر ہے جس کے سبب تھرمل الیکٹرک بجلی گھروں کو کی جانے والی کوئلہ کی فراہمی بھی متاثر ہو گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next