مڈ ڈے میل: ’بی جے پی حکومت مقوی غذا کے نام پر بچوں کے ساتھ گھٹیا اور بھدا مذاق کر رہی ہے‘
کچھ دنوں پہلے کی ہی بات ہے جب اتر پردیش کے کانپور میں ’مڈ ڈے میل‘ کے تحت ملنے والے دودھ میں گھوٹالہ کی خبر سامنے آئی تھی۔

اتر پردیش کے ایک اسکول میں بچوں کو انتہائی غیر معیاری ’مڈ ڈے میل‘ دیے جانے کی ویڈیو تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہی ہے۔ اس ویڈیو میں سبزی کے نام پر آلو (جس میں پانی زیادہ ہے) تقسیم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو دیکھنے میں ہی عجیب لگ رہا ہے۔ اس ویڈیو کو کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر بھی شیئر کیا ہے۔ ویڈیو پیش کرتے ہوئے کانگریس نے سوال کیا ہے کہ ’’کیا آپ اسے ’سبزی‘ کہیں گے؟‘‘
سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے اپنے اس سوال کا جواب بھی خود ہی دیا، اور لکھا ہے کہ ’’شاید نہیں... (اسے سبزی نہیں کہیں گے) لیکن یوپی کے اسکولوں کو مڈ ڈے میل میں یہی سب پیش کیا جا رہا ہے۔‘‘ ساتھ ہی کانگریس نے بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’بی جے پی حکومت مقوی غذا کے نام پر بچوں کے ساتھ ایسا گھٹیا اور بھدا مذاق کر رہی ہے۔ یہ حکومت شرم بیچ کر ہر سطح پر بدعنوانی کرنے پر آمادہ ہے، اور عالم یہ ہے کہ ان کے لیڈر-وزیر بچوں کا نوالہ چھیننے سے بھی باز نہیں آ رہے ہیں۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ ’مڈ ڈے میل‘ کے نام پر غیر معیاری کھانا بچوں کو دینے کی کئی تصویریں پہلے بھی سامنے آ چکی ہیں۔ کچھ دنوں پہلے کی ہی بات ہے جب اتر پردیش کے کانپور میں ’مڈ ڈے میل‘ کے تحت ملنے والے دودھ میں گھوٹالہ کی خبر سامنے آئی تھی۔ دراصل پرائمری اسکول کے کے ایک طالب علم کو 150 ملی لیٹر اور جونیئر کے ایک طالب علم کو 200 ملی لیٹر دودھ دینے کا پیمانہ طے ہے۔ گزشتہ ہفتہ جب اس کی جانچ کی گئی تو کئی اسکولوں میں بچوں کو بہت کم دودھ دیا گیا تھا۔ شیوراج پور بلاک کے گھمئو کمپوزٹ اسکول کی پرنسپل روپانجلی نے بتایا کہ پردھان کی طرف سے وقت پر دودھ دستیاب نہیں کرایا گیا، جس سے 140 بچوں کو دودھ نہیں مل سکا۔
اسی طرح چوبے پور کے پرائمری اسکول پرتاپ پور میں 12 بچے غیر حاضر ملے، لیکن رسوئی میں ایک لیٹر سے بھی کم دودھ گیس پر گرم ہوتا ملا۔ مندھنا واقع کمپوزٹ اسکول دوئم میں 91 بچوں کے لیے کم از کم 15 لیٹر دودھ ہونا چاہیے تھا، لیکن صرف 10 لیٹر ہی دودھ ملا۔ انچارج پرنسپل قمر جہاں نے بتایا کہ سبھی بچوں کو دودھ دے دیا گیا۔ ایک دیگر پرائمری اسکول بگدودھی کچھار میں 17 بچے غیر حاضر ملے۔ پرنسپل رجنی اگروال اور رینو تومر کا کہنا ہے کہ ڈھائی لیٹر دودھ منگوا کر سبھی بچوں کو تقسیم کیا گیا۔ اورنگ پور شانتی ودیالیہ میں جب جائزہ لیا گیا تو وہاں کھچڑی تو بنی تھی، لیکن 75 بچوں کو دودھ نہیں دیا جا سکا۔ گویا کہ مڈ ڈے میل میں مبینہ طور پر گھوٹالوں کا بازار گرم ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
