دوسری لہر کا قہر ابھی ختم نہیں ہوا، پہاڑی علاقوں کے سیاحتی مقامات پر کووڈ کی صورتحال کا جائزہ لیا

راجستھان ، کیرالہ ، مہاراشٹر ، تمل ناڈو ، مغربی بنگال ، اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش کے کچھ اضلاع میں کووڈ پازیٹو کیسزکی شرح 10 فیصد سے زیادہ ہونا تشویش کی بات ہے۔

فائل تصویر یو این آئی
فائل تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ملک میں کورونا کی صورتحال میں کوئی بہتری آئی ہے لیکن اس کے با وجود لوگوں کا پہاڑی علاقوں کے سیاحتی مقامات پر بڑی تعداد میں جانا جاری ہے۔ مرکزی داخلہ سکریٹری اجے بھلا نے ہفتہ کے روز یہاں ایک میٹنگ میں پہاڑی علاقوں کے سیاحتی مقامات پرکووڈ-19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ریاستی حکومتوں کی جانب سے کئے گئے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا۔

میٹنگ کے دوران گوا ، ہماچل پردیش ، کیرالہ ، مہاراشٹر ، راجستھان ، تمل ناڈو ، اتراکھنڈ اور مغربی بنگال میں کووڈ ۔19 کی موجودہ صورتحال کے مجموعی انتظامات اور لوگوں کی ٹیکہ کاری کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ مرکزی داخلہ سکریٹری نے ہل اسٹیشنوں اور دیگر سیاحتی مقامات پرکووڈ ضابطوں کی خلاف ورزی کی رپورٹوں کے مدِ نظرلوگوں سے محتاط رہنےکو کہا ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کووڈ کی دوسری لہر کا قہر ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاستوں کو اپنی طرف سے پہل کرتے ہوئے لوگوں کو ماسک پہننے ، سماجی فاصلہ ، اور طے شدہ پروٹوکول پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا چاہئے ۔


اس کے ساتھ یہ بھی پایا گیا کہ ویسے توکووڈ پازیٹو کیسزکی مجموعی شرح شاید کم ہو رہی ہے ، لیکن راجستھان ، کیرالہ ، مہاراشٹر ، تمل ناڈو ، مغربی بنگال ، اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش کے کچھ اضلاع میں کووڈ پازیٹو کیسزکی شرح 10 فیصد زیادہ ، جو یقینی طور پر تشویش کی بات ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔