لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 14 دن کے لئے ’آئسولیشن‘ میں بھیجنے کا حکم

مرکزی وزارت داخلہ کے احکامات کے مطابق جو شخص لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرے گا اسے 14 دن کے لئے آئسولیشن سینٹر میں بھیج دیا جائے گا، حکم کے دائرے میں وہ لوگ بھی آئیں گے جو شہروں سے اپنے گاؤں لوٹ رہے ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کورونا وائرس سے نمٹنے اور اس کی روک تھام کے لئے ملک بھر میں نافذ 21 دن کے لاک ڈاؤن پر اب مزید سختی کے ساتھ عمل کرایا جائے گا اور اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرے گا تو اسے 14 دن تک تنہائی کے مرکز (آئسولیشن سینٹر) میں رکھا جائے گا۔ مرکزی وزارت داخلہ نے اس سلسلے میں تمام ریاستوں کو ہدایات جاری کی ہیں۔


لاک ڈاؤن کے دوران ہزاروں کی تعداد میں مزدور اور کارکن کام دھندے ختم ہو جانے کی وجہ سے اپنے آبائی علاقوں اور شہروں کو واپس لوٹ رہے ہیں۔ راجدھانی دہلی کی صورتحال اس وقت انتہائی تشویشناک ہوگئی جب دہلی کے آنند وہار بس اسٹینڈ پر ہزاروں مہاجر مزدور اپنے کنبے کے ساتھ جمع ہو گئے اور ان کی بڑی تعداد نے اتر پردیش میں اپنے آبائی مقامات کی جانب پیدل ہی کوچ کر دیا۔

اب مرکزی حکومت نے ریاستوں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ لوگوں کی نقل مکانی پر پابندی عائد کریں۔ حکومت نے سختی سے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں کو تنہائی مرکز میں 14 دن کے لئے بھیجا جائے گا۔ یہ ضابطہ ان مزدوروں پر بھی نافذ ہوگا جو لاک ڈاؤن کے باوجود اپنے گھروں تک پہنچے ہیں یا پہنچنے والے ہیں۔


مرکزی حکومت نے کہا کہ جن مزدوروں نے نقل مکانی کی ہے، آبائی ریاست پہنچنے کے بعد انہیں 14 دن کے لئے تنہائی میں رکھا جائے۔ نیز، تمام ریاستوں کو صوبائی اور شہروں کی حدود بھی سیل کر دی جائے تاکہ لاک ڈاؤن کو مؤثر انداز میں نافذ کرکے لوگوں کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔

دریں اثنا، مرکزی کابینہ کے سکریٹری راجیو گوبہ اور مرکزی سکریٹری داخلہ اجے بھلا نے ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ چیف سکریٹریوں اور ڈی جی پی کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کر کے شہروں کی سڑکوں اور شاہراہوں پر ٹریفک کو مکمل طور پر بند کرا دیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔