جامعہ ملیہ میں ’یوم میوات‘ کا انعقاد، سنہری تاریخ کی یادیں تازہ

تاریخ داں صدیق احمد میو نے جامعہ کے میواتی طلبہ کے سامنے میوات کی ہزاروں سال پر محیط تاریخ کو اپنی تقریر کا محور چار ایسے مواقع کا ذکر کیا جن میں میوات اجڑ کر تہس نہس ہوکر رہ گیا

تصویر صابر قاسمی
تصویر صابر قاسمی
user

محمد صابر قاسمی میواتی

نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں زیر تعلیم میواتی طلبہ کی جانب سینکڑوں میواتی طلبہ کی جانب سے یوم میوات پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں مہمان خصوصی کے طور پر میوات سے صدیق احمد میو نے شرکت کی۔ اس موقع پر تاریخ داں صدیق احمد میو نے علاقہ میوات کی ہزاروں سال پر محیط سنہری تاریخی پس منظر پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

واضح رہے کہ یوم میوات کا انعقاد تقسیم وطن کے پُر آشوب حالات 19 دسمبر 1947 کو میوات کے گاؤں گھاسیڑیا میں پہنچ کر آنجہانی گاندھی جی نے میواتیوں کو پاکستان ہجرت کرنے سے روکا تھا اسی پس منظر میں یہ پروگرام منعقد کیا جاتا ہے، جبکہ جامعہ کے میواتی طلبہ کی جانب سے یہ پہلا پروگرام ہے۔ تقسیم وطن کے موقع پر گاندھی جی میوات آمد کے موقع سے میوات کی کل آبادی میں سے 66 فیصد پاکستان نقل مکانی کر چکی تھی جبکہ گاندھی جی کے جان مال کے تحفظ دلانے پر 33 فیصد آبادی نے پاکستان نہ جانے کا فیصلہ کیا۔

جامعہ ملیہ میں ’یوم میوات‘ کا انعقاد، سنہری تاریخ کی یادیں تازہ

اسی مناسبت سے ہر سال میواتی قوم یوم میوات پروگرام کے ذریعے ہند و پاک میں تقسیم ہ وکر اپنے بچھڑے خاندانوں کے درد کا رونا روتے ہیں۔ تاریخ داں صدیق احمد میو نے جامعہ کے میواتی طلبہ کے سامنے میوات کی ہزاروں سال پر محیط تاریخ کو اپنی تقریر کا محور چار ایسے مواقع کا ذکر کیا جن میں میوات اجڑ کر تہس نہس ہوکر رہ گیا۔

انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے بلبن نے میواتیوں پر حملہ آور ہوکر ہزاروں میواتیوں کو موت گھاٹ اتار کر دیہی علاقوں کو نظر آتش کیا، دوسرے بار شہنشاہ بابر نے میوات پر اپنی فوج کشی کر میوات کو برباد کیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ لڑتے لڑتے اپنے سپہ سالار راجہ حسن خان میواتی سمیت 12 ہزار سے زائد میواتی جنگجو شہید ہوئے، تیسرے 1857 کی جنگ میں تیسری بار میوات کو اجاڑا گیا وہیں چوتھی بار 1947 میں بہت حد تک میواتیوں کا سماجی معاشی سیاسی تعلیمی شیرازہ بندی منتشر ہو کر تقسیم وطن کی نظر ہو کر میواتی قوم انتہائی کمزور ہو گئی اور پاکستان نقل مکانی کرنے والے میواتیوں کی آبادی بھی منتشر ہو کر رہائش پذیر ہوئی۔

جامعہ ملیہ میں ’یوم میوات‘ کا انعقاد، سنہری تاریخ کی یادیں تازہ

تقسیم کا نقصان میوات کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے انہوں نے کہا کہ تقسیم سے قبل میوات کی آبادی3000 ہزار گاؤں پر مشتمل تھی جو اب محض 1264 گاؤں پر رہ گئی 4 ہزار مساجد میں سے محض 228 مساجد واپس ملیں، علاوہ ازیں یا تو شہید کر دی گئی یا پھر مقبوضہ ہوکر رہ گئی، وہیں الور و ریاست بھرت پور میں میو قوم کے پاس 2 لاکھ 81 ہزار اراضی تھی جو بعد میں میواتیوں کو 80 ہزار ایکڑ ملی وہیں تقسیم کے حالات میں 17 ہزار ریاست بھرت پور اور 3 ہزار اس وقت کی ریاست الور میں میو مرتدد ہوگیے سینکڑوں میو دو شیزایئں اغوا ہوئی وہیں، انہوں نے بتایا کہ سیاسی طور پر چوہدری یٰسین خاں کا سیاسی حریف مسلم لیگ سے وابستہ خان بہادر تھا جو پاکستان چلا گیا جس سے میوات کی سیاست کو حزب اختلاف سے محروم ہو گئی جس کے بعد میواتی قوم کا سیاسی استحصال ہونے کی وجہ سے میوات پچھڑتا چلا گیا اور تعلیم یافتہ اور امراء قسم کا اکثر طبقہ پاکستان ہجرت کر گیا، تقسیم کی یہ دلدوز حالات میواتیوں کے لیے انتہائی کربناک ثابت ہوئے۔

جامعہ ملیہ میں ’یوم میوات‘ کا انعقاد، سنہری تاریخ کی یادیں تازہ

اس موقع پر جامعہ میں زیر تعلیم سبھی شعبہ جات کے سینکڑوں میواتی طلبہ نے شرکت کر تقریباً 4 گھنٹوں پر مبنی پروگرام کو بہت سنجیدگی کے ساتھ آخر تک سماعت کیا اس درمیان میوات کی لسانی سماجی معاشرتی کلچرل پر مبنی کئی اہم ڈرامے جہیز آپسی جھگڑے میواتی نوجوان کا سیاسی استحصال کیسے ہو ہو رہا ہے اور قوم کے لیے کون سی سماجی برائیاں دیمک ثابت ہو رہی ہیں اور ان سے سماج پر کیا منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اسی پر مبنی ڈرامے پیش کیے گئے۔

اس موقع پر اس پروگرام میں سینکڑوں کی تعداد میں جامعہ میں زیر تعلیم میواتی طلبہ نے حصہ لیا جامعہ انتظامیہ کی جانب سے ڈپٹی پراکٹر جناب محمود نے میوات کے طلبہ کو ایسے پروگرام کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی اور مبارک باد پیش کی۔ اس موقع پر میوات سے صدیق احمد میو، دین محمد ملک اسلام الدین ایڈووکیٹ، خالد حسین گھاسیڑہ، پروفیسر محسن خان، سارا عادل ابن اختر زبیر ڈیمروت جامعہ کے طلبہ میں وسیم خان، مہوں عمران، چوہدری نظام پور، مکرم سالاہیڑی مبشر میواتی اور ان کی ٹیم کے درجنوں فعال رفقاء قابل ذکر ہیں جنہوں نے یہ خوبصورت پروگرام آرگنائز کرنے میں محنت کی۔