آہ! مولانا اسرار الحق قاسمی ہمارے درمیان نہیں رہے

رکن پارلیمنٹ اور معروف عالم دین مولانا اسرارالحق قاسمی ہمارے درمیان نہیں رہے اور ان کا ہمارے درمیان سے چلے جانا ملی اور قومی نقصان ہے۔

تصویر سوشل میڈیا 
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

رکن پارلیمنٹ اور معروف عالم دین مولانا اسرارالحق قاسمی ہمارے درمیان نہیں رہے اور ان کی رحلت ایک ایسا ناقابل تلافی خسارہ ہے جس کی بھرپائی مستقبل قریب میں نظر نہیں آتی۔ معروف عالم دین، ممتاز قومی و ملی رہنما، دار العلوم دیوبند کے رکن شوری اور کشن گنج سے رکن پارلیمنٹ حضرت مولانا اسرار الحق قاسمی کا صبح ساڑھے تین بجے انتقال ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق حضرت کو رات کو شدید دل کا دورہ پڑا تھا۔

مولانا اسرارلحق صاحب ایک ایسا گھنا سایہ دار درخت تھے جس کے تلے ملت نے کئی مراحل پار کئے اور پریشانی میں اس درخت کی چھاؤں میں سکون حاصل کیا، آج وہ گھنا سایہ سروں سے اٹھ گیا ہے اور پوری ملت اس سے محروم ہو گئی ہے۔ مولانا کمال کی شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی شخصیت کے ایک سے ایک نمایا پہلو تھے وہ عالم دین تھے، سیاست داں تھے، دانشور تھے، کالم نگار تھے اور بہترین انسان تھے۔نرم مزاج، بردبار اور مشکل ترین حالات میں بھی کبھی پریشان نہ ہونا ان کی امتیازی پہچان تھی۔ ان کے بعد ہمارے پاس بس ان کی علمی میراث، ان کے خطبات اور ان کی بلند شخصیت کے نمایا پہلو ہیں جن کی روشنی میں ہمیں اپنا مستقبل کا سفر طے کرنا ہے۔

مولانا کی پیدائش 1942 میں ہوئی تھی اور پسماندگان میں ان کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔

Published: 7 Dec 2018, 8:31 AM