مدرسہ ٹیچر کی صاحبزادی صفا: جو راہل گاندھی کے ہمراہ کھڑی ہوئی اور محفل لوٹ لے گئی

کانگریس رہنما اور وائناڈ کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے اپنے حلقہ انتخاب میں ایک اسکول کی سائنس لیب کا افتتاح کیا، دریں اثنا 17 سالہ طالبہ صفا نے کچھ ایسا کیا کہ محفل ان کی واہوہی کرنے پر مجبور ہو گئی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ایشلن میتھیو

کانگریس کے رہنما اور وائناڈ کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے اپنے حلقہ انتخاب میں ایک اسکول کی سائنس لیب کا افتتاح کیا، دریں اثنا، ان کی تقریر کا ترجمہ کرنے والی 17 سالہ طالبہ نے محفل لوٹ لی۔ اس نے بلا جھجک اعتماد کے ساتھ راہل کی تقریر کا ملیالی زبان میں ترجمہ کیا۔ یہ لڑکی ایک مدرسہ ٹیچر کی بیٹی ہے اور اس کا نام صفا فیبن ہے۔ صفا محض 17 سال کی ہے اور ملپورم کے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول کاروارکنڈو کی بارہویں جماعت کی طالبہ ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

راہل گاندھی اپنے انتخابی حلقے کے تین روزہ دورے پر ہیں اور جمعرات کے روز وہ ایک اسکول میں نو تعمیر شدہ سائنس لیب لیب کا افتتاح کرنے پہنچے تھے۔ انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز انگریزی میں کیا، بیشتر سینئر طلباء تو انگریزی سمجھتے ہیں لیکن کئی چھوٹے طلبہ نہیں سمجھ پاتے۔ شاید یہی سوچتے ہوئے انہوں نے طلبہ سے پوچھا کہ کیا کوئی ایسا طالب علم ہے جو ان کی تقریر کا ترجمہ کر سکے؟

راہل گاندھی نے کہا، ’’میں یہاں مترجم کے ساتھ نہیں آیا۔ ہمارے ایم ایل اے انیل کمار اور کے سی وینوگوپال یہاں موجود ہیں، لیکن اگر کوئی طالب علم میری تقریر کا ترجمہ کرے گا تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔‘‘

بارہویں جماعت کی طالبہ کا کہنا تھا کہ اس کے دوستوں اور اساتذہ نے اسے ترجمہ کرنے کی کوشش کرنے کی ترغیب دی۔ صفا نے کہا، ’’یہ ایک لمحہ میں لیا گیا فیصلہ تھا اور میں اچانک اسٹیج کی طرف چل دی۔ ان کو (راہل گاندھی) سمجھنا کافی آسان رہا اور میرے خیال میں انہوں نے اپنے بولنے کی رفتار بھی اس وجہ سے کم کر لی تھی کہ ترجمہ کرنے والی ایک طالب علم ہے۔ اس سب کی وجہ سے میرے لئے ترجمہ کرنے کافی آسان ہو گیا۔‘‘

مدرسہ ٹیچر کی صاحبزادی صفا: جو راہل گاندھی کے ہمراہ کھڑی ہوئی اور محفل لوٹ لے گئی

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس وقت صفا راہل گاندھی کی تقریر کا ترجمہ کر رہی تھی تو ان کے ساتھی طلبہ پُر جوش نظر آ رہے تھے۔ وہ جیسے ہی بات پوری کرتی بچے بلند آواز میں ان کی تعریف کرتے اور شور مچا کر انہیں داد دیتے۔ اس طرح صفا نے راہل گاندھی کی موجودگی میں محفل لوٹ لی۔

کیمسٹری میں گریجویشن کرنے کی خواہشمند صفا نے کہا، ’’مجھے لگتا ہے راہل گاندھی کی تقریر کا سب سے اہم نکتہ یہ تھا کہ انہوں نے ہم سب کو ساری زندگی متجسس رہنے کے لئے کہا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی یہ خاص عادت ہوتی ہے کہ وہ سوالات پوچھتے ہیں، لیکن جیسے جیسے ہم بڑے ہو جاتے ہیں، ہم سب یہ عادت کھو دیتے ہیں۔ یہ انسان ہونے کی علامت ہے۔ ایک بچہ ہمیشہ اپنے آس پاس کی دنیا کو سمجھنے کے لئے تحقیق کرتا ہے۔ ہمیں بچوں کی اس عادت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی بچے میں پیدائشی نفرت نہیں ہوتی۔ نفرت اور غصہ دو ایسے اجزاء ہیں جو سائنسی مزاج کو ختم کردیتے ہیں۔ یہ یاد رکھنے والی بات ہے۔‘‘

ایک مدرسہ ٹیچر کی بیٹی صفا نے مزید کہا، ’’تقریر کے بعد راہل گاندھی نے مجھے مبارکباد دی اور کہا کہ مجھے یہ اعتماد آگے بھی بنائے رکھنا ہے۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ مجھے ان کے ساتھ ڈائس اشتراک کرنے اور ان سے ہاتھ ملانے کا موقع ملا۔ وہ وائناڈ کو ملنے والے بہترین پارلیمنٹیرین ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ہمارے تمام مسائل کو اٹھائیں گے۔‘‘

Published: 5 Dec 2019, 7:52 PM