میرٹھ: میڈیکل تھانہ کے باہر ’بی جے پی لیڈران کا داخلہ ممنوع‘ والا بینر، حیران کن حقیقت کا انکشاف

بینر منظر عام پر آنے کے بعد میرٹھ کے ایس ایس پی پربھاکر چودھری نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے، جبکہ ایس پی سٹی ونیت بھٹناگر نے کہا کہ بینر خود بی جے پی کارکنان نے نصب کیا تھا۔

میرٹھ میں تھانہ کے باہر نصب ’بی جے پی لیڈران کا داخلہ ممنوع‘ والا بینر / تصویر آس محمد کیف
میرٹھ میں تھانہ کے باہر نصب ’بی جے پی لیڈران کا داخلہ ممنوع‘ والا بینر / تصویر آس محمد کیف
user

آس محمد کیف

میرٹھ: اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں ایک بینر نے حکمراں جماعت بی جے پی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان تنازعہ میں اضافہ کر دیا ہے۔ میرٹھ شہر کے میڈیکل تھانہ کے باہر نصب اس بینر پر لکھا گیا ہے ’’بی جے پی کارکنان کا اس تھانہ میں آنا منع ہے!‘‘ میرٹھ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ بینر خود بی جے پی کارکنوں نے پولیس پر دباؤ ڈالنے کے لیے لگایا ہے۔ اتر پردیش کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے بھی اس معاملے میں حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ یوپی میں ایسا پہلی بار ہوا ہے۔

بینر منظر عام پر آنے کے بعد میرٹھ کے ایس ایس پی پربھاکر چودھری نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے، جبکہ ایس پی سٹی ونیت بھٹناگر نے کہا کہ بینر خود بی جے پی کارکنان نے نصب کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کارکنان ایک معاملہ میں اپنی مرضی کے مطابق کارروائی کرنا چاہتے تھے جبکہ پولیس منصفانہ کارروائی کر رہی تھی۔ چونکہ انسپکٹر کسی خاص پارٹی کے کارکنوں کے دباؤ میں نہیں آئے تو وہ ناراض ہو گئے اور خود ہی یہ سازش رچی۔ پولیس اب ان تمام کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کر رہی ہے جنہوں نے یہ بینر لگایا تھا۔ ایس پی سٹی نے مزید کہا کہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان میں سے کچھ کارکن پہلے ہی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔


میرٹھ کے ایس ایس پی پربھاکر چودھری نے بینر نصب کرنے والے افراد کو سماج دشمن عناصر قرار دیتے ہوئے کہا یہ لوگ تھانہ میں ہنگامہ کر رہے تھے، اسی دوران ایک شخص یہ بینر لے کر آیا اور اسے تھانے کی باہری دیوار پر نصب کر دیا۔ بینر لگا کر نامناسب دباؤ بنانے اور پولیس کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہی لوگوں نے تصاویر اور ویڈیو وائرل بھی کئے ہیں۔ اس معاملہ میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ملزمان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

میرٹھ ضلع کے میڈیکل پولیس اسٹیشن سے متعلق یہ تنازع ایک خاندانی جھگڑے سے وابستہ ہے۔ ضلع کے انچولی تھانہ علاقہ کے مسوری کی رہنے والی پوجا کی شادی 4 سال قبل نوچندی علاقہ کے رہائشی اودھیش سے ہوئی تھی۔ اودھیش کی تقریباً 8 ماہ قبل بیماری سے موت واقع ہو گئی۔ الزام ہے کہ پوجا کے سسر شیام سنگھ اور دیور انوج نے اسے گھر سے باہر نکال دیا اور اودھیش کی دکان پر قبضہ کر لیا۔ جمعہ کے روز بی جے پی کارکن متاثرہ کے حق میں میڈیکل پولیس اسٹیشن پہنچے تھے۔ پولیس نے دوسری طرف کے لوگوں کو بھی بلا لیا اور سمجھوتہ کی کوشش کی۔ اسی دوران بی جے پی کارکنان نے ہنگامہ شروع کر دیا اور جو کئی گھنٹے جاری رہا۔


میڈیکل پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر سنت شرن سنگھ کے مطابق میرٹھ کے میڈیکل پولیس اسٹیشن میں کچھ مقامی لوگ ایک خاتون کے دیور سے دکان خالی کرنے کے لیے ناجائز دباؤ ڈال رہے تھے۔ انسانیت کی بنیاد پر دونوں فریقین کے مذاکرات بھی کرائے گئے۔ پولیس یکطرفہ طور پر کارروائی کرکے قبضہ نہیں ہٹا سکتی۔ یہاں نعرے بازی کی گئی اور ہنگامہ بھی کیا گیا، انہی لوگوں کے ہاتھ میں بینر بھی تھا، یہ بینر کہاں سے آیا اس کی تحقیقات جاری ہے۔ ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

میرٹھ شہر سے سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی رفیق انصاری نے کہا کہ بی جے پی پورے شہر میں غنڈہ گردی کر رہی ہے۔ وہ سماجوادی پارٹی کے کارکنوں پر غنڈہ گردی کا جھوٹا الزام عائد کرتے تھے، اب انہیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔ پولیس بھی ان کی نامناسب اور غیر ضروری مداخلت سے تنگ آ چکی ہے۔ زیادہ تر تھانے بی جے پی کے لوگ چلاتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ خود اس حقیقت کو جانتے ہیں لیکن بی جے پی کارکنوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہے۔


خیال رہے کہ میرٹھ میں پولیس اور بی جے پی کارکنوں کے درمیان تنازعہ کا یہ پہلا معاملہ نہیں ہے۔ ضلع کے کئی تھانوں میں بی جے پی کارکنوں نے پولیس پر بیجا دباؤ بنانے کی کوشش کی، جس کی پولیس نے سختی سے مخالفت کی۔ اس سے پہلے 2 اپریل کو بی جے پی کارکن ایک حساس اور کثیر فرقے والے علاقہ میں چاند رات کے دن مذہبی پروگرام منعقد کرنے پر بضد تھے۔ بی جے پی لیڈران اور کارکنان کے مشتعل ہونے کے باوجود پولیس نے انہیں منمانی نہیں کرنے دی۔ میرٹھ کے ایس ایس پی پربھاکر چودھری کے لئے کہا جاتا ہے کہ وہ سیاسی دباؤ کے سامنے کبھی نہیں جھکتے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔