میرٹھ: 50 دلت خاندانوں کا مذہب تبدیل کرنے کا اعلان

اتر پردیش کے میرٹھ شہر میں دلتوں کو مورتی نصب کرنے سے روکا گیا، نارض دلت خاندانوں نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ اپنا مذہب تبدیل کر لیں گے۔

اتر پردیش کے میرٹھ شہر میں دلتوں نے ایک بار پھر استحصال کی شکایت کی ہے۔ قصبہ انچولی کے رہائشی ان 50 دلت خاندانوں نے مذہب تبدیل کرنے کی دھمکی دی ہے۔

ان خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ نوراتر کے موقع پر گاؤں کے مندر میں مورتی نصب کرنا چاہ رہے تھے لیکن انہیں ایسا کرنے سے روک دیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد سے دلتوں میں سخت غصہ پایا جا رہا ہے۔

ایک دلت نوجوان راجکمار نے کہا، ’’ہم ہندو ہیں اور اگر ہم کالی ماں کی مورتی مندر میں نہیں لگا سکتے تو ہم کہاں جائیں۔ اس سے تو اچھا ہے کہ ہم مذہب تبدیل کر لیں۔‘‘ اس معاملہ کو لے کر دلتوں نے مظاہرہ بھی کیا۔

میرٹھ کے اے ڈی ایم (ای ) رامچندرن نے کہا، ’’مظاہرین کا الزام ہے کہ وہ گاؤں کے مندر میں مورتی لگانا چاہتے ہیں لیکن مقامی لوگوں نے ایسا کرنے سے انہیں روک دیا۔ معاملہ کی جانچ کی جائے گی ۔ ‘‘

الزام ہے کہ گاؤں کے نصف درجن مقامی لوگوں نے مورتی لگائے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے اینٹیں پھینک دیں۔ اس کو لے کر ہنگامہ ہوا لیکن بعد میں سبھی خاموش ہو گئے۔ بدھ کی صبح پھر سے مندر میں مورتی لگانے کی بات ہوئی تو لوگوں نے پھر سے مخالفت کی۔ اس کے بعد 50 خاندانوں نے مذہب تبدیل کرنے کا انتباہ دے دیا۔ بدھ کی شام ان دلت خاندانوں نے ضلع مجسٹریٹ کی رہائش پر پہنچ کر احتجاج کیا تھا۔

سب سے زیادہ مقبول