مدھیہ پردیش: حمیدیہ اسپتال میں 3 سالوں کے دوران 40 لاکھ روپے کی ادویہ خراب

طبی تعلیم کے وزیر وشواس سارنگ نے اسمبلی میں کانگریس رکن اسمبلی پی سی شرما کے ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ حمیدیہ اسپتال میں گزشتہ تین سالوں میں 40 لاکھ روپے کی دوائیں خراب ہوئیں۔

علامتی تصویر، سوشل میڈیا
علامتی تصویر، سوشل میڈیا
user

یو این آئی

بھوپال: مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کے سب سے بڑے اسپتال ’حمیدیہ اسپتال‘ میں گزشتہ تین برسوں میں تقریباً 40 لاکھ روپے کی دوائیں خراب ہوگئیں۔ اسمبلی میں آج طبی تعلیم کے وزیر وشواس سارنگ نے کانگریس رکن اسمبلی پی سی شرما کے ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ اطلاع دی۔

وشواس سارنگ نے بتایا کہ حمیدیہ اسپتال، بھوپال ایک اعلیٰ سطح کا اسپتال ہے جہاں پوری ریاست سے مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ لہذا وافر مقدار میں دواؤں کا ذخیرہ رکھا جاتا ہے۔ تمام ادویات کی خریداری اسپتال کے مختلف شعبوں کی ڈیمانڈ کے مطابق کی جاتی ہے۔ تمام محکموں کے انچارج کو مستقبل قریب میں زائد المیعاد (ایکسپائرڈ) ادویہ کی معلومات بھیجی جاتی ہیں۔ گزشتہ تین برسوں میں حمیدیہ اسپتال، بھوپال میں 3907345.16 روپے کی دوائیں ایکسپائرڈ ہوئی ہیں۔

طبی تعلیم کے وزیر سارنگ نے ایک دیگر سوال کے جواب میں بتایا کہ کورونا دور میں حمیدیہ اسپتال سے ریمڈیسیور انجکشن چوری سے جڑے معاملوں میں جانچ کرائی گئی۔ جانچ میں اسٹاک درست اور صحیح حالت میں پایا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔