2700 روپے کی دوا 27000 میں ہو رہی فروخت، بے تحاشا منافع کمانے پر سپریم کورٹ سخت برہم
عدالت نے کہا ہے کہ جو دوائیں ریٹیلر کو 2700 روپے میں ملتی ہیں، اس پر 27000 روپے کی ایم آر پی چھاپی جا رہی ہے۔ مریضوں سے 10 گنا قیمت کی وصولی ایک طرح سے دن دہاڑے ڈکیتی ہے۔

جان لیوا امراض کی ادویات پر بے تحاشا منافع کمانے کا چلن خوب پروان چڑھ رہا ہے۔ کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کی زیادہ قیمتوں اور دکانداروں کو ہونے والے بھاری منافع پر سپریم کورٹ نے سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ جو دوائیں ریٹیلر کو 2700 روپے میں ملتی ہیں، اس پر 27000 روپے کی ایم آر پی چھاپی جا رہی ہے۔ مریضوں سے 10 گنا قیمت کی وصولی ایک طرح سے دن دہاڑے ڈکیتی ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے یہ تبصرہ کشن چند جین اور سنجے کلشریشٹھ کی عرضیوں پر سماعت کے دوران کیا۔ ان عرضیوں میں ’ڈرگ پرائس کنٹرول آرڈر‘ (ڈی پی سی او) 2013 کی خامیوں کا مسئلہ اٹھایا گیا ہے۔
عرضی گزاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ ضابطوں میں کچھ ضروری ادویات یعنی ’شیڈول ڈرگ‘ کی قیمتیں طے کی جاتی ہیں، لیکن ’نان شیڈول ڈرگ‘ کی ابتدائی قیمتوں پر حکومت کا مؤثر کنٹرول نہیں ہے۔ عرضی گزاروں نے کہا ہے کہ اس کا فائدہ اٹھا کر دوا ساز کمپنیاں بہت زیادہ ایم آر پی طے کر دیتی ہیں۔ اس طرح ریٹیلر اور پرائیویٹ اسپتالوں کو بھاری مارجن ملتا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ عدالت نے حکومت سے جواب طلب کیا اور اگلی سماعت کے لیے 29 ستمبر کی تاریخ دی۔ اپنی عرضی کی خود پیروی کر رہے کشن چند جین نے کہا کہ دوا کی ابتدائی قیمت طے کرنے میں حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ اس کا کنٹرول بعد میں دوا کی قیمت بڑھانے پر ہے۔ ایسی صورت میں شروع میں ہی تیار کنندگان اتنی زیادہ قیمت مقرر کر دیتے ہیں کہ مریضوں کے لیے دوا خریدنا مشکل ہو جاتا ہے۔
بازار میں دستیاب مجموعی ادویات میں سے صرف 17 فیصد ہی شیڈول ڈرگ ہے، جس کی قیمت پر حکومت مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔ عرضی گزار نے کہا کہ زندگی بچانے والی ادویات کی قیمت اتنی زیادہ رکھی گئی ہے کہ کئی بار مریضوں کے اہل خانہ کو اپنا گھر اور زیورات تک فروخت کرنے پڑتے ہیں۔ اس پر جسٹس سندیپ مہتا نے سوال کیا کہ جب ریٹیلر کو دوا 2700 روپے میں مل رہی ہے، تو عوام سے 27000 روپے کیوں لیے جا رہے ہیں؟ ادویات کی قیمت سے متعلق حکومت کے ریگولیٹری ادارے کارروائی کیوں نہیں کر رہے ہیں؟
عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کی قیمتوں کا اثر صرف مریضوں پر ہی نہیں، بلکہ ٹیکس ادا کرنے والے لوگوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ جب مریض آیوشمان بھارت یا دوسری سرکاری صحت اسکیموں کے تحت علاج کراتے ہیں، تو اسپتال ان ادویات کی زیادہ ایم آر پی کی بنیاد پر حکومت سے ادائیگی لیتے ہیں۔ ایسے میں سرکاری خزانے پر بھی بلاوجہ بوجھ پڑتا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے. ایم. نٹراج نے کہا کہ حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ دوا ساز اداروں کی تنظیم کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ ادویات کی قیمت میں ریٹیلر اور اسپتال کی سطح پر بھی بڑا مارجن شامل ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ زیادہ قیمت سے دوا ساز کمپنی ہی منافع کما رہی ہو۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
