جائزہ میٹنگ میں انتخابی نتائج پر غور و خوض کریں گی مایاوتی

بی ایس پی سپریمو مایاوتی پیر کو پارٹی ذمہ داروں اور نو منتخب اراکین پارلیمان کے ساتھ میٹنگ کر کے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کے خراب مظاہرے کا جائزہ لے کرہار کی وجوہات پر غوروخوض کریں گی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سپریمو مایاوتی پیر کو پارٹی ذمہ داروں اور نو منتخب اراکین پارلیمان کے ساتھ میٹنگ کر کے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کے خراب مظاہرے کا جائزہ لے کرہار کی وجوہات پر غوروخوض کریں گی۔

پارٹی ذرائع نے بتایا کہ دہلی میں بی ایس پی دفتر میں ہونے والی اس میٹنگ میں اترپردیش میں لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کے مایوس کن مظاہرے کی وجوہات کا جائزہ لینے کے امکانات ہیں سماج وادی پارٹی( ایس پی) اور راشٹریہ لوک دل ( آر ایل ڈی) کے ساتھ اتحاد کر کے لڑے گئے انتخاب میں بی ایس پی کو امید کے مطابق سیٹیں نہیں ملی تھیں۔

اس انتخاب میں بی ایس پی نے 38 امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارا تھا جس میں اس کے دس امیدواروں نے جیت کا پرچم لہرایا حالانکہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بی ایس پی کا کھاتہ بھی نہیں کھلا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ میٹنگ میں ضلع صدر، زون انچارج اور اراکین پارلیمان کو بلایا گیا ہے۔ جائزہ میٹنگ کے بعد کچھ عہدیداروں کی ذمہ داری میں تبدیلی کے امکانات ہیں جبکہ کچھ کو ان کے موجودہ عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ پارٹی کے مظاہرے سے ناخوش محترمہ مایاوتی نے اترپردیش میں بی ایس پی کے صدر آر ایس کشواہا کو اتراکھنڈ کے انچارج سے ہٹا دیا ہے۔ ان کے مقام پر ایم ایل تومر کو نیا انچارج مقرر کیا گیا ہے۔