اندور میں آلودہ پانی سے اموات پر مایاوتی کا سخت ردعمل، ریاستی حکومت کو ذمہ دار قرار دیا
اندور میں آلودہ پانی پینے سے اموات پر مایاوتی نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سرکاری لاپرواہی قرار دیا۔ انہوں نے ریاستی اور مرکزی حکومت سے مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا تاکہ آئندہ ایسے سانحات روکے جا سکیں

مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں آلودہ پانی پینے کے نتیجے میں ہونے والی اموات اور درجنوں افراد کے بیمار ہونے کے واقعے پر بہوجن سماج پارٹی کی قومی صدر مایاوتی نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو نہایت افسوس ناک، چونکا دینے والا اور سرکاری غیر ذمہ داری کا واضح نتیجہ قرار دیتے ہوئے ریاستی حکومت کو براہ راست قصوروار ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ صاف پانی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ہر حکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے، مگر اندور کا یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ اس محاذ پر سنگین لاپرواہی برتی گئی۔
مایاوتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ آلودہ پانی سے بے گناہ شہریوں کی جان جانا اور بڑی تعداد میں لوگوں کا بیمار ہونا نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ پورے ملک میں فطری طور پر غم و غصے کا سبب بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی بے حسی اور بدانتظامی کے باعث خاندان اجڑ رہے ہیں، جو انتہائی تشویش ناک اور ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق جس طرح جرائم پر قابو پانے اور قانون و انتظام کے معاملے میں غفلت سامنے آتی ہے، اسی طرح بنیادی شہری سہولیات میں بھی بدعنوانی اور لاپرواہی عوام کی جان کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کے شرمناک واقعات کی روک تھام کے لیے ریاستی حکومت کو سخت ترین اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ مایاوتی نے مرکزی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا سنجیدہ نوٹس لے اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنائے تاکہ ملک کے کسی دوسرے حصے میں دوبارہ ایسا دل دہلا دینے والا سانحہ پیش نہ آئے۔
واضح رہے کہ اندور کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں آلودہ پانی پینے سے متعدد افراد بیمار پڑے، جن میں سے کئی کی موت واقع ہو گئی۔ اس معاملے پر قومی انسانی حقوق کمیشن نے از خود نوٹس لیتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا اور مدھیہ پردیش کے چیف سکریٹری کو نوٹس جاری کیا ہے۔ کمیشن نے دو ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔
اموات کی تعداد کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار میں چار سے سات اموات بتائی جا رہی ہیں، جبکہ مقامی باشندوں اور بعض رپورٹس کے مطابق یہ تعداد دس سے تیرہ تک ہو سکتی ہے، جن میں ایک چھ ماہ کا معصوم بچہ بھی شامل ہے۔ سو سے زائد افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جہاں انہیں دست، قے اور دیگر آبی بیماریوں کی علامات لاحق پائی گئی ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔