مایاوتی نے ’کسان مہاپنچایت‘ میں ہندو-مسلم ہم آہنگی کی تعریف کی

بی ایس پی سربراہ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ کسانوں کی مہاپنچایت میں ہندو-مسلم سماجی ہم آہنگی کی کوششیں قابل تعریف ہے اور یہ قدم مظفر نگر میں ہوئے فسادات کے زخم کو مندمل کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

مایاوتی، تصویر آئی اے این ایس
مایاوتی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی ( بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے مظفر نگر میں منعقد کسان مہاپنچایت کو بنیاد بناتے ہوئے سماج وادی پارٹی (ایس پی)، کانگریس اور بی جے پی کو ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ ایسی کوششیں کچھ لوگوں کو ناگوار گزر رہی ہوں گی۔ بی ایس پی سپریمو نے پیر کو اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ کسانوں کی مہاپنچایت میں ہندو-مسلم سماجی ہم آہنگی کی کوششیں قابل تعریف ہیں اور یہ قدم مظفر نگر میں ہوئے فسادات کے زخم کو مندمل کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

سابق وزیر اعلی نے پیر کو یکے بعد دیگر کئے گئے دو ٹوئٹ میں لکھا کہ "یو پی کے مظفر نگر میں کل منعقد کی گئی زبردست مہاپنچایت میں ہندو-مسلم سماجی ہم آہنگی کے لئے کوششیں کافی قابل تعریف ہیں۔ اس سے یقیناً سال 2013 میں ایس پی کے میعاد کار میں ہوئے خوفناک فسادات کے گہرے زخموں کو بھرنے میں تھوڑی مدد ملے گی لیکن یہ بہت سارے لوگوں کو ناگوار بھی گزر رہا ہوگا'۔


اپنے دوسرے ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ 'کسان ملک کی شان ہیں اور ہندو۔مسلم بھائی چارے کے لئے اسٹیج سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے لگائے گئے نعروں سے بی جے پی کی نفرت سے بوئی گئی ان کی سیاسی زمین کھسکتی ہوئی دکھنے لگی اور مظفر نگر نے کانگریس و ایس پی کے فساد سے بھرے اقتدار بھی لوگوں کے من میں تازہ کر دیا ہے'۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔